Urdu book · اسلام اور انتہا پسندی

ایک آیت

Urdu book, p. 10

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک آیت قرآن میں ہے کہ اور جو کوئی اس کے موافق فیصلہ نہ کرے جو اللہ نے اتارا ہے تو وہی لوگ کافر ہیں: وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمُ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ (5)۔ ان الفاظ سے بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ”ما انزل اللہ“ کے مطابق فیصلہ نہ کرنے سے آدمی کافر ہو جاتا ہے۔ اسی طرح بہت سی حدیثیں ہیں جن میں بعض اعمال پر کفر کی خبر دی گئی ہے۔ مثلاً: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ: سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ وَقِتَالُهُ كُفْرٌ ( صحيح البخاری، حدیث نمبر 47)۔ یعنی، مسلم کو گالی دینا فسق ہے اور اس سے جنگ کرنا کفر ہے۔ اس طرح کی آیتوں اور حدیثوں کو لے کر کچھ اسلام پسند حضرات ان مسلمانوں کو کافر قرار دیتے ہیں جو ان کے نزدیک ”ما انزل اللہ“ پر فیصلہ نہیں کر رہے ہیں۔ اس نظریہ کے تحت وہ بہت سے مسلم حکمرانوں کو مرتد اور کافر بتاتے ہیں اور ان کے قتل کو جائز قرار دیتے رہے ہیں۔ اس قسم کا نظریہ بدترین گمراہی ہے اور اس نے عالم اسلام میں خارجیت جیسے ایک فتنہ کو دوبارہ شدید تر صورت میں زندہ کر دیا ہے۔ اس کے نتیجہ میں نہ صرف مسلمان مسلمان کو قتل کر رہا ہے، بلکہ خود اسلام کی تصویر ایک ایسے مذہب کی ہوگئی ہے جو تشدد اور خون ریزی کی تعلیم دیتا ہو۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page