اسلام اور انتہا پسندی
Urdu book, p. 11
By Maulana Wahiduddin Khan
اس قسم کی آیات اور احادیث کی صحیح تفسیر وہ ہے، جو حبر الامت اور امام التفسیر عبد اللہ بن عباس نے کی۔ انہوں نے کہا کہ اس سے مراد وہ کفر نہیں ہے جس سے آدمی خارج از اسلام قرار پاتا ہے۔ بلکہ اس سے مراد: کفر دون کفر (سنن ترمذی، حدیث نمبر 2635) ہے۔ یعنی کفر سے کم تر درجہ کا ایک کفر۔ قرآن و حدیث میں جہاں اس قسم کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں وہ فقہی یا قانونی مفہوم میں نہیں ہیں۔ وہ ایک اسلوب کلام ہے۔ وہ دراصل زجر میں مبالغہ ہے۔ یہ شدت کلام کی ایک مثال ہے۔ اور نا صحانہ کلام میں ہمیشہ اس قسم کا انداز اختیار کیا جاتا ہے، کبھی ایک قسم کے الفاظ میں اور کبھی دوسرے قسم کے الفاظ میں ۔ یہ قانونی زبان اور نا صحانہ زبان کا فرق ہے، نہ کہ فقہی معنوں میں مسلم اور کافر کا فرق۔ نصیحت اور تنبیہ کبھی سادہ الفاظ میں کی جاتی ہے اور کبھی شدید الفاظ میں۔ مذکورہ مثالیں اسی نوعیت کی شدید انداز کی مثالیں ہیں۔ (الرسالہ، ستمبر 1996) بے معنی مسائل حدیث میں آیا ہے: قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم عَنِ الْغُلُوطَاتِ (مسند احمد، حدیث نمبر 23687)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader