Urdu book · اسلام اور انتہا پسندی

اسلام اور انتہا پسندی

Urdu book, p. 13

By Maulana Wahiduddin Khan

مسلک کے لوگ اس کے قائل تھے کہ: أَنَا مُؤْمِنٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ (میں مومن ہوں، اگر اللہ نے چاہا) کہنا جائز ہے۔ اس کے برعکس، حنفی مسلک کے لوگوں کا کہنا تھا کہ ایسا کہنا جائز نہیں۔ جب یہ بحث بڑھی تو یہ سوال پیدا ہو گیا کہ ایسے لوگوں کے درمیان نکاح درست ہوگا یا نہیں۔ ایک گروہ نے کہا کہ حنفی عورت کا نکاح شافعی مرد کے ساتھ جائز نہیں۔ کیونکہ اس کو اپنے ایمان میں شک ہے (لَا يَصِحُّ لِأَنَّهَا تَشُكُّ فِي إِيمَانِهَا)۔ دوسروں کا فتوی یہ تھا ذمی عورت پر قیاس کرتے ہوئے کہ نکاح درست ہوگا: يَصِحَّ نِكَاحَهَا قِيَاسًا عَلَى الذِّمِّيَّةِ (ارشاد النقاد للصنعانی، صفحہ 21)۔ اس سے اندازہ کیجیے کہ غیر ضروری بحثوں میں پڑنے کے بعد صراط مستقیم کا سرا کس طرح چھوٹ جاتا ہے۔ (الرسالہ، جنوری 1983) شدت پسندی نہیں حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لَا تُشَدِّدُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ فَيُشَدَّدَ عَلَيْكُمْ، فَإِنَّ قَوْمًا شَدَّدُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ فَشَدَّدَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ، فَتِلْكَ بَقَايَاهُمْ فِي الصَّوَامِعِ وَالدِّيَارِ (سنن ابوداؤد، حدیث نمبر 4904)۔ یعنی، تم اپنے آپ پر سختی نہ کرو ورنہ تم پر سختی کی جائے گی۔ کیوں کہ ایک قوم نے اپنے آپ پر سختی کی۔ پھر اللہ نے بھی ان پر سختی کی، تو انہیں لوگوں کے باقیات ہیں گرجوں میں اور خانقاہوں میں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page