Urdu book · اسلام اور انتہا پسندی

بے معنی مسائل

Urdu book, p. 12

By Maulana Wahiduddin Khan

غلوطات سے منع کیا ہے۔ غلوطات سے مراد وہ مسائل ہیں جو واقع ہونے سے پہلے فرضی طور پر قائم کیے جاتے ہیں۔ (هِيَ الْمَسَائِلُ الَّتِي لَمْ تَقَعْ )۔ دوسری حدیث میں ارشاد ہوا ہے: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ : إِنَّ اللَّهَ كَرِهَ لَكُمْ ثَلَاثاً : قِيلَ وَقَالَ ، وَإِضَاعَةَ الْمَالِ، وَكَثْرَةَ السُّؤَالِ ( صَحِيحُ البخاري، حدیث نمبر 1477 ) ۔ اللہ نے تمہارے لیے قیل وقال کو اور کثرت سوال کو اور مال ضائع کرنے کو ناپسند کیا ہے۔ یہ تعلیم بے حد حکمت پر مبنی ہے۔ اگر لوگوں کے اندر یہ مزاج باقی نہ رہے تو وہ ہر بات کو بحث کا موضوع بنائیں گے ، ہر چیز کو منطق کے پیمانے سے ناپیں گے۔ اس کے نتیجے میں یہ ہوگا کہ دین کا اصل سرا چھوٹ جائے گا اور بے معنی مسائل پر لفظی بحث کے سوا ان کے پاس اور کچھ باقی نہ رہے گا۔ خدا کا سادہ دین انسانی اضافوں کے بعد مشکل اور پیچیدہ دین ہو کر رہ جائے گا۔ ایک مثال لیجیے: ایک مرتبہ کسی نے ایک آدمی سے پوچھا کیا تم مسلمان ہو؟ اس کی زبان سے نکلا: أَنَا مُؤْمِنٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ (خدا نے چاہا تو میں مومن ہوں ) ۔ یہ بات بحث کی نہ تھی۔ مگر بعد کے ماہرینِ فقہ نے غیر ضروری طور پر اس کو بحث کا موضوع بنایا۔ اب ان کے درمیان یہ بحث چل پڑی کہ اس قسم کا جواب دینا جائز ہے یا نا جائز۔ ایک گروہ نے کہا کہ جائز ہے۔ کیونکہ کسی کا مومن ہونا یا نہ ہونا خدا کی مشیت ہی پر ہے۔ دوسرے گروہ نے کہا کہ نا جائز ہے۔ کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آدمی کو اپنے ایمان میں شک ہے۔ شافعی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page