شدت پسندی نہیں
Urdu book, p. 15
By Maulana Wahiduddin Khan
شدت پسندی اللہ کو پسند نہیں۔ جو لوگ شدت پسندی کا طریقہ اختیار کرتے ہیں، ان کا انجام یہ ہوتا ہے کہ متشددانہ طریقہ ان کی روایات میں شامل ہو کر ان کے دین کا جزء بن جاتا ہے۔ اس طرح ان کی بعد کی نسلیں مجبور ہو جاتی ہیں کہ وہ ان کی پیروی کریں۔ کیوں کہ ایسا نہ کرنے کی صورت میں ان کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ اعلیٰ معیار سے کم تر درجہ کی دین داری اختیار کیے ہوئے ہیں۔ اس شدت پسندی کا تعلق محدود طور پر صرف رہبانیت سے نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق ہر دینی شعبہ سے ہے۔ مثلاً قومی اور سیاسی حقوق کی جدوجہد کے لیے دو ممکن طریقے ہیں۔ ایک پر امن جدوجہد اور دوسری پر تشدد جد و جہد۔ اس معاملہ میں صحیح طریقہ یہ ہے کہ پر امن اور غیر متشددانہ طریقہ کار کے ذریعہ اپنے مقصد کے حصول کی جدوجہد کی جائے ۔ اس کے برعکس، اگر متشددانہ طریقہ کار کا انداز اختیار کیا جائے تو اس کے بیک وقت دو نقصان ہوں گے۔ ایک یہ کہ قوم کو غیر ضروری سختیاں برداشت کرنی پڑیں گی۔ دوسرے یہ کہ جب ایک بار متشددانہ طریقہ کار کی روایت قائم ہو جائے گی تو اس کو جدوجہد کے اعلیٰ معیار کی حیثیت حاصل ہو جائے گی۔ متشددانہ طریقہ کار کو بے نتیجہ سمجھتے ہوئے بھی لوگ اس پر قائم رہیں گے۔ کیوں کہ اس سے ہٹنے کے بعد لوگوں کو محسوس ہوگا کہ انہوں نے خود دین کے مطلوب معیار کو چھوڑ دیا۔ انہوں نے عزیمت کے بجائے رخصت کا راستہ اختیار کر لیا۔ انہوں نے اقدام کے بجائے پسپائی کو اپنا طریقہ بنا لیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader