اسلام اور انتہا پسندی
Urdu book, p. 16
By Maulana Wahiduddin Khan
شدت پسندی ہی کی ایک صورت وہ ہے جس کو انتہا پسندی (extremism) کہا جاتا ہے۔ انتہا پسندی یہ ہے کہ آدمی حقائق اور امکانات کو نظر انداز کر کے اپنے عمل کا نقشہ بنائے۔ وہ عقل کے بجائے اپنے جذبات کی رہنمائی میں چلنے لگے۔ وہ دور اندیشی کے بجائے عجلت پسندی کی روش اختیار کرلے۔ وہ تدرّج کے بجائے چھلانگ کے ذریعہ اپنا سفر طے کرنا چاہے۔ ایسا آدمی یہ کرتا ہے کہ وہ شوق کو اپنے آگے رکھ دیتا ہے اور دور اندیشی کو اپنے پیچھے ۔ وہ بھول جاتا ہے کہ ہر ایک کی ایک حد ہے خواہ وہ کوئی فرد ہو یا کوئی گروہ۔ حد کو نظر انداز کرنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص جلتے ہوئے انگارے کی گرمی کا اندازہ کرنے کے لیے اس کو اپنے ہاتھ میں لے لے۔ یا پتھر کو توڑنے کے لیے اپنے سر کو ہتھوڑا بنا لے۔ اس قسم کا ہر فعل حد سے تجاوز کرنا ہے۔ اور حد سے تجاوز کرنے والے لوگ اس دنیا میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے (الرساله، فروری 2003)۔ نا قابلِ معافی حدیث میں آیا ہے کہ ایک لڑائی میں ایک مسلمان کے سر پر زخم آگیا۔ وہ زخمی حالت میں تھا کہ اگلی صبح کو اسے غسل کی حاجت ہوئی۔ پانی سر پر ڈالنا سخت مہلک تھا۔ اس نے دوسرے مسلمان ساتھیوں سے مسئلہ پوچھا۔ انہوں نے کہا کہ پانی کی موجودگی میں ہم تیرے لیے کوئی گنجائش نہیں پاتے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader