کلچرل ہیری ٹیج کا پریز رویشن
Urdu book, p. 34
By Maulana Wahiduddin Khan
یہاں ایک وراثتی تابوت ( صندوق ) موجود تھا جو نسل در نسل ان کے یہاں ذریعہ سکون کے طور پر محفوظ رہا۔ اس تابوت میں آل موسیٰ اور آل ہارون کے تبرکات محفوظ کیے گئے تھے ۔ گویا یہ عین وہی چیز تھی جس کو موجودہ زمانے میں کلچرل ہیریٹیج کہا جاتا ہے۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وراثتی تابوت کو اتنی زیادہ اہمیت حاصل تھی کہ ایک موقع پر اس کو فرشتے ایک جگہ سے دوسری جگہ لے گئے۔ ( 2:248 ) میں سمجھتا ہوں کہ کلچرل ہیر ٹیج کو محفوظ کرنے کی یہ ایک براہ راست مثال قرآن میں موجود ہے۔ اس سے کلچرل ہیریٹیج کی اہمیت بھی ثابت ہوتی ہے اور یہ بھی کہ ایسی چیز کو نسل در نسل محفوظ رکھنا شریعت الہی کے خلاف نہیں۔ 4۔ قرآن میں مومن کی ایک صفت ” السائح “ بتائی گئی ہے ( 9:112 ) ۔ یعنی سیاحت کر کے زمین کے مختلف مقامات پر جانا اور پچھلی قوموں کے چھوڑے ہوئے آثار و مساکن کو دیکھ کر ان سے نصیحت لینا ( 28:58 ) ۔ قرآن میں تکرار کے ساتھ یہ آیت آئی ہے: قُلْ سِيرُوا فِي الْأَرْضِ ثُمَّ انْظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةَ الْمُكَذِّبِينَ ( 6:11 ) ۔ یعنی، کہو، زمین میں چلو پھر و اور دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا انجام کیا ہوا۔ اس کے مطابق ، اسلام میں یہ مطلوب ہے کہ ماضی کے تاریخی آثار کو اس کی ابتدائی شکل میں محفوظ رکھا جائے تا کہ دیکھنے والے لوگ ان سے سبق

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader