کلچرل ہیری ٹیج کا پریز رویشن
Urdu book, p. 36
By Maulana Wahiduddin Khan
کَنَائِسُهُمْ وَلَا تُهْدَمُ، وَلَا يُنْتَقَصُ مِنْهَا وَلَا مِنْ حَيْزِهَا، وَلَا مِنْ صَلِيبِهِمْ، وَلَا مِنْ شَيْءٍ مِنْ أَمْوَالِهِمْ، وَلَا يُكْرَهُونَ عَلَى دِينِهِمْ، وَلَا يُضَارُ أَحَدٌ مِنْهُمْ (تاریخ الطبری ، جلد 3، صفحہ (609 _ اس قسم کی چیزیں مسیحی کلچر کا حصہ تھیں مگر معاہدہ میں یہ لکھا گیا کہ مسیحی فرقہ کو یہ حق ہوگا کہ ان کے چرچ ڈھائے نہ جائیں اور ان کے کلچرل ہیریٹج کو کسی قسم کا نقصان نہ پہنچایا جائے ۔ وہ جس طرح چاہیں اپنے کلچر کی حفاظت کریں۔ خلیفہ ثانی کے اس عمل سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ہر قوم کو یہ حق حاصل ہے کہ جس چیز کو وہ اپنے کلچر کا حصہ سمجھتی ہے اس کو وہ محفوظ رکھے خواہ وہ مسلم حکومت کے اندر ہو یا مسلم حکومت کے باہر۔ کسی حکومت کو یہ حق نہیں کہ وہ کسی گروہ کے کلچر کے معاملے میں دخل دے۔ کلچر کے تحفظ کا معاملہ حکومتی مداخلت سے آزاد معاملہ ہے۔ اس سلسلے میں ایک اہم بات یہ ہے کہ بین الاقوامی اہمیت کی چیزوں میں اسلام کا نارم (norm) بھی وہی ہوگا، جو دوسری قوموں کا متفقہ نارم ہو۔ انٹرنیشنل نارم کے معاملے میں اسلام کا یہ اصول پیغمبر اسلام علیہم کے بعض واقعات سے مستنبط ہوتا ہے۔ مثلاً رسول اللہ صلی الہ وسلم کے آخری زمانے میں یمن کے ایک شخص مسیلمہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader