کلچرل ہیری ٹیج کا پریز رویشن
Urdu book, p. 37
By Maulana Wahiduddin Khan
نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ اس نے دو آدمیوں پر مشتمل اپنا ایک وفد رسول اللہ ﷺ کے پاس مدینہ بھیجا اور یہ کہلوایا کہ آپ میری نبوت کو قبول کریں۔ پیغمبر اسلام ﷺ نے ان دو آدمیوں سے پوچھا کہ مسیلمہ کے معاملے میں تمہاری اپنی رائے کیا ہے۔ دونوں نے کہا کہ ہم بھی اس کو اس دعویٰ کے مطابق نبی مانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ اگر یہ رواج نہ ہوتا کہ سفیروں کو قتل نہیں کیا جاتا تو میں ضرور تم دونوں کو قتل کر دیتا (سنن ابوداؤد، حدیث نمبر 2761)۔ پیغمبر اسلام ﷺ کے اس ارشاد سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ اگر کوئی چیز انٹرنیشنل طور پر تسلیم کر لی جائے تو اسلام میں بھی اس کو تسلیم کیا جائے گا۔ اس اصول کی روشنی میں کلچرل ہیریٹیج کو محفوظ کرنا اسلام میں بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا کہ دوسری قوموں کے نزدیک اہم ہے۔ جدید دنیا میں کلچرل ہیرٹیج یا ہسٹاریکل مانیومنٹ کو نہایت اہمیت کے ساتھ محفوظ کیا جاتا ہے۔ اسلام میں بھی بلاشبہ ایسا ہی کیا جائے گا۔ اس معاملے میں دوسروں سے الگ اسلام کا کوئی طریقہ نہیں۔ پیغمبر اسلام ﷺ مکہ میں پیدا ہوئے۔ وہاں کھجور کے درخت نہیں ہوتے تھے۔ اس کے بعد آپ ہجرت کر کے مدینہ آئے۔ یہاں کھجوروں کے باغ ہوا کرتے تھے۔ ایک دن آپ ٹاؤن سے باہر ایک باغ کے پاس سے گزرے۔ یہاں کچھ لوگ کھجور کے درخت پر چڑھ کر اپنے ہاتھوں سے ہینڈ پالی نیشن

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader