Urdu book · اسلام اور انتہا پسندی

اسلام اور انتہا پسندی

Urdu book, p. 47

By Maulana Wahiduddin Khan

قُلْ يَأَيُّهَا الْكَافِرُونَ ایک مخصوص خطاب ہے اس کو عمومی طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ یعنی قُلْ يَأَيُّهَا الْكَافِرُونَ سے مراد ہمیشہ کے لیے صرف قدیم منکرین قریش رہیں گے جو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے معاصر تھے اور پیغمبرانہ اتمام حجت کے باوجود جنہوں نے پیغمبر کی بات کو ماننے سے انکار کیا۔ زمانہ نبوت کے بعد کے لوگوں کو اَیُّهَا الْإِنْسَانُ (اے انسان) کے لفظ سے خطاب کیا جائے گا، نہ کہ اَیُّهَا الْكَافِرُونَ (اے منکرو) کے لفظ سے۔ اب یہی انداز خطاب ہمیشہ جاری رہے گا۔ یہاں تک کہ قیامت آجائے۔ کافر کا مفہوم عربی زبان میں کفر کے معنی انکار کے ہیں اور کافر کا مطلب ہے انکار کرنے والا۔ اسلام کے مطابق کافر ایک کردار ہے، کافر کسی قوم کا اجتماعی لقب نہیں : Kafir is an individual character rather than a group title of a certain race or community. کافر وہ ہے جو منکر ہو (one who refuses to accept)۔ قرآن کے اردو ترجموں میں سب سے زیادہ صحیح ترجمہ شاہ عبد القادر دہلوی کا مانا جاتا ہے۔ انہوں نے اپنے ترجمہ قرآن میں کافر کا ترجمہ منکر کے لفظ سے کیا ہے۔ یہی اس لفظ کا صحیح ترجمہ ہے۔ قرآن کے انگریزی مترجمین اکثر کافر کا ترجمہ ان

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page