Urdu book · اسلام اور انتہا پسندی

داعی اور مدعو کا رشتہ

Urdu book, p. 46

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کی سورہ نمبر 109 میں : قُلْ يَاأَيُّهَا الْكَافِرُونَ (کہو کہ اے منکرو) کے الفاظ آئے ہیں۔ یہ طرزِ خطاب پورے قرآن میں صرف ایک بار اسی ایک سورہ میں استعمال ہوا ہے۔ کافر یا کفار یا کافرون کے الفاظ تو قرآن میں متعدد بار آئے ہیں۔ مگر أَيُّهَا الْكَافِرُونَ جیسے متعین خطاب کی صورت میں اس کا استعمال قرآن میں کسی اور مقام پر نہیں ہوا ہے۔ مفسرین کی رائے کے مطابق، یہاں الکافرون میں الف لام عہد کا ہے ۔ یعنی وہ ایک گروہ خاص کے لیے مشخص (specific) طور پر آیا ہے، نہ کہ عمومی طور پر ہر اس شخص کے لیے جو مسلم گروہ سے باہر ہو۔ ذیل میں کچھ مفسرین کے اقوال درج کیے جاتے ہیں : الْمُخَاطَبُونَ كُفَّارٌ مَخْصُوصُونَ قَدْ عَلِمَ اللَّهُ أَنَّهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ (تفسیر النسفی ، جلد 3، صفحہ 687 ) ۔ یعنی، اس کے مخاطب مخصوص منکرین ہیں، جن کے بارے میں اللہ جانتا ہے کہ وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ وَعَنَى بِالْكَافِرِينَ قَوْمًا مُعَيَّنِينَ لَا جَمِيعَ الْكَافِرِينَ (تفسیر القرطبی، جلد 20، صفحہ 226 ) ۔ یعنی، اس سے مراد منکرین کا متعین گروہ ہے، نہ کہ تمام منکرین ۔ خِطَابٌ لِجَمَاعَةٍ مَخْصُوصَةٍ (تفسیر المظہری، جلد 10 ، صفحہ 354 ) ۔ یعنی، یہ خطاب ایک مخصوص جماعت سے ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page