فعل اور فاعل کا فرق
Urdu book, p. 49
By Maulana Wahiduddin Khan
فعل اور فاعل کا فرق قرآن کی سورہ نمبر 109 کی پہلی آیت یہ ہے: قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ (109:1)۔ اس آیت میں الکافرون سے مراد قدیم مکہ کے منکرین قریش ہیں۔ ان الفاظ میں قریش کے منکرین کے بارے میں اتمام حجت کے بعد یہ اعلان کیا گیا کہ تم لوگ اللہ کی نظر میں کافر ہو چکے ہو۔ قرآن میں اس طرح تعیین اور تشخص کی زبان میں کسی اور گروہ کے کافر ہونے کا اعلان نہیں کیا گیا۔ قرآن میں دوسرے مقامات پر کفر اور کافر کے الفاظ آئے ہیں۔ مثلاً فرمایا: فَمِنْكُمْ كَافِرٌ وَمِنْكُمْ مُؤْمِنٌ (64:2)۔ یعنی، پھر تم میں سے کوئی منکر ہے اور کوئی مومن۔ اسی طرح ارشاد ہوا ہے: فَمِنْهُمْ مَنْ آمَنَ وَمِنْهُمْ مَنْ كَفَرَ (2:253)۔ یعنی، پھر ان میں سے کوئی ایمان لایا اور کسی نے انکار کیا۔ ان دوسری قسم کی آیتوں میں فعل کا ذکر ہے، مگر مشخص طور پر فاعل کا ذکر نہیں۔ یعنی یہ تو کہا گیا ہے کہ فلاں فعل کا ارتکاب کفر ہے یا فلاں فعل کا ارتکاب کرنے والا خدا کی نظر میں کافر بن جاتا ہے۔ مگر ان دوسری قسم کی آیتوں میں ایسا نہیں کیا گیا ہے کہ کسی گروہ کو مشخص اور متعین کر کے اُس کے بارے میں یہ اعلان کیا جائے کہ فلاں فلاں گروہ کافر ہیں۔ قرآنی بیان میں اس فرق سے ایک اصول معلوم ہوتا ہے۔ اور وہ اصول یہ ہے کہ یہ کہنے کا حق ہر داعی کو ہے کہ فلاں فعل کا ارتکاب کفر ہے۔ مگر یہ حق کسی بھی داعی یا عالم کو نہیں کہ وہ مشخص طور پر یہ اعلان کرے کہ فلاں گروہ یا فلاں قوم

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader