Urdu book · اسلام اور انتہا پسندی

فعل اور فاعل کا فرق

Urdu book, p. 50

By Maulana Wahiduddin Khan

کافر ہے۔ ایک متوازی مثال سے اس معاملے کی مزید وضاحت ہوتی ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ: مَنْ تَرَكَ الصَّلَاةَ مُتَعَمِّداً فَقَدْ كَفَرَ (المجم الاوسط للطبرانی، حدیث نمبر (3348)۔ یعنی، جس نے جان بوجھ کر نماز ترک کیا، اس نے کفر کیا۔ دوسری حدیث میں یہ الفاظ ہیں ــــ بَيْنَ الرَّجُلِ وَبَيْنَ الشِّرْكِ وَالْكُفْرِ تَرْكُ الصَّلَاةِ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 82)۔ یعنی، بندے اور شرک وکفر کے درمیان فرق نماز چھوڑنے سے ختم ہو جاتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی مسلمان جان بوجھ کر مسلسل نماز ترک کرے تو وہ شریعت کے مطابق کافر ہو جاتا ہے۔ اس حدیث کو لے کر کوئی مصلح اگر یہ کرے کہ وہ عمومی طور پر ترغیب و تہیب کے انداز میں مسلمانوں کو نماز کی طرف متوجہ کرے اور ترک صلاۃ کی وعید بتائے تو اس کا ایسا کرنا بالکل جائز ہوگا۔ لیکن اگر کوئی مصلح ایسا کرے کہ وہ نماز نہ پڑھنے والے مسلمانوں کی نام بنام ایک فہرست تیار کرے اور اس فہرست کو لے کر مشخص طور پر یہ اعلان کرے کہ فلاں فلاں مسلمان ترک صلاۃ کی بنا پر کافر ہو چکے ہیں تو اس کا ایسا کرنا بالکل غلط ہوگا۔ ٹھیک اسی طرح کوئی داعی یا مصلح قرآن کی آیتوں کو لے کر یہ مسئلہ بیان کر سکتا ہے کہ وہ کون سے اعمال ہیں جن کا ارتکاب کرنے سے کوئی شخص اللہ کی نظر میں کافر ہو جاتا ہے۔ لیکن اس کا ایسا کرنا اپنی حد سے تجاوز ہوگا کہ وہ غیر مسلم افراد یا گروہوں کے نام لے کر یہ اعلان کرے کہ فلاں فلاں غیر مسلم لوگ کافر ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page