Urdu book · اسلام اور انتہا پسندی

اسلام اور انتہا پسندی

Urdu book, p. 68

By Maulana Wahiduddin Khan

رہے۔ کوئی ناخوشگوار بات پیش نہ آئے ۔ اس دنیا میں ہمیشہ ناموافق حالات موجود رہیں گے۔ ہمارا کام یہ ہے کہ ناموافق حالات کے درمیان موافق پہلو کو دریافت کریں اور اس کو اپنے حق میں استعمال کریں ۔ اس اصول کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا (94: 6)۔ یعنی جہاں مسائل ہیں، وہیں مواقع بھی موجود ہیں۔ تم مسائل کو نظر انداز کرو اور مواقع کو استعمال کرو۔ یہ ایک آفاقی حکمت ہے۔ اس حکمت کا تعلق ٹی وی سے بھی ہے اور دوسری تمام چیزوں سے بھی (الرسالہ، دسمبر 2004)۔ غلو کی حقیقت ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ اس کا ترجمہ یہ ہے: دین میں غلو سے بچو (إِیَّاكُم وَالْغُلُو)۔ کیونکہ تم سے پہلے جو لوگ تھے، وہ دین میں غلو کی وجہ سے ہلاک ہو گئے (مسند احمد، حدیث نمبر 3248)۔ غلو کا لفظی مطلب انتہا پسندی (extremism) ہے۔ انتہا پسندی ہمیشہ تباہی کا ذریعہ بنتی ہے۔ اصل یہ ہے کہ دین کے دو حصے ہیں۔ ایک ہے بنیادی حصہ (basics)، اور دوسرا ہے جزئی حصہ (non-basics)۔ دین کے بنیادی حصے پر اگر زور دیا جائے تو اس سے دین میں کوئی خرابی پیدا نہ ہوگی۔ لیکن جب دین کے غیر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page