Urdu book · اسلام اور انتہا پسندی

ٹیلی ویژن کا استعمال

Urdu book, p. 67

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ بات بجائے خود صحیح ہے کہ ٹی وی پر بہت سے غیر اخلاقی پروگرام آتے ہیں ۔ مگر یہ ٹی وی کا غلط استعمال ہے۔ اور یہ ایک معلوم بات ہے کہ غلط استعمال ہر چیز کا ہوسکتا ہے۔ حتیٰ کہ ثابت شدہ طور پر مقدس چیزوں کا بھی۔ غلط استعمال کی بنا پر کسی چیز کو چھوڑ نہیں دیا جائے گا بلکہ اس کے استعمال کو درست کیا جائے گا۔ اس معاملہ میں مذہبی طبقہ کی ذمہ داری صرف یہ نہیں ہے کہ وہ منفی ردعمل ظاہر کر کے الگ ہو جائے۔ اس معاملہ میں مذہبی طبقہ کی ایک مثبت ذمہ داری ہے۔ اور یہ کہ ان لوگوں کو چاہیے کہ وہ ٹی وی کے طریقہ کو فنی طور پر سمجھیں ۔ وہ اس کے استعمال کی تفصیلات کو جانیں ۔ وہ یہ دریافت کریں کہ ٹی وی کو کس طرح اصلاحی کام کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ پھر مذہبی طبقہ کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ ضروری تیاری کے بعد ٹی وی کے لیے اعلیٰ درجہ کے اسلامی پروگرام تیار کرے، ایسا پروگرام جو لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرے۔ جس کو دیکھنے کے لیے لوگ راغب ہوں ۔ جو آج کے انسان کے ذہن کو ایڈریس کرے۔ اسلام کا طریقہ منفی ردعمل کا طریقہ نہیں ہے بلکہ منفی حالات میں مثبت پہلو تلاش کرنے کا طریقہ ہے۔ اس کی ایک مثال قدیم کعبہ کی ہے جس کا اوپر ذکر ہوا۔ اصل یہ ہے کہ موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ یہاں ہر عورت اور مرد کو آزادی دی گئی ہے۔ اس لیے یہ ناممکن ہے کہ موجودہ دنیا میں سب کچھ ٹھیک

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page