اسلام اور انتہا پسندی
Urdu book, p. 70
By Maulana Wahiduddin Khan
درست، وغیرہ۔ اگر فارم میں تعدد کے اصول کو مان لیا جائے تو دین میں کبھی فرقہ بندی نہیں ہوگی (الرسالہ، اپریل 2017)۔ غلو نہیں قرآن (4:171) میں اہل کتاب کے تذکرہ کے ذیل میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ تم لوگ اپنے دین میں غلو نہ کرو (لَا تَغْلُوا فِي دِينِكُمْ )۔ یہی بات حدیث میں ان الفاظ میں آئی ہے کہ تم لوگ دین میں غلو سے بچو، کیوں کہ پچھلی امتیں دین میں غلو کی وجہ سے ہلاک ہوگئیں : اِيَّاكُمْ وَالْغُلُوَّ فِي الدِّيْنِ فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِالْغُلُوِّ فِي الدِّيْنِ (مسند احمد، حدیث نمبر 1851)۔ غلو کا مطلب ہے زیادہ ہونا، حد سے تجاوز کرنا۔ حدیث کے مطابق، ہر قسم کے معاملات میں توسط اور اعتدال کی راہ ہی درست راہ ہے۔ اعتدال یا میانہ روی کا طریقہ ہمیشہ کامیابی کی طرف لے جاتا ہے اور غلو کا طریقہ ہمیشہ نقصان اور ناکامی کی طرف۔ یہ خود فطرت کا قانون ہے۔ اسی لیے عالمی سطح پر اس کا اعتراف کیا گیا ہے۔ انگریزی کا ایک مقولہ ہے کہ زیادتی ہر چیز میں بری ہے : An excess of everything is bad. غلو کا تعلق ہر معاملہ سے ہے۔ مثلاً عقیدہ میں پختہ ہونا بہت اچھی بات ہے مگر عقیدہ کے کھلے اظہار میں اگر جان کا خطرہ ہو تو ایسی حالت میں اپنی جان

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader