Urdu book · اسلام اور انتہا پسندی

غلو نہیں

Urdu book, p. 71

By Maulana Wahiduddin Khan

بچانے کے لیے اخفا کا حکم دیا گیا ہے۔ نماز اور روزہ، ذکر اور تلاوت قرآن، سب مطلوب اعمال ہیں۔ مگر ان کی غیر معتدل کثرت مطلوب نہیں۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر بلا شبہ ضروری اعمال میں سے ہیں، لیکن اگر کوئی شخص اس کو تشدد کی حد تک لے جائے تو وہ درست نہ ہوگا۔ یہی معاملہ اخلاقی اصولوں کا بھی ہے۔ مثلاً خود اعتمادی ایک اعلیٰ اخلاقی صفت ہے۔ لیکن خود اعتمادی اگر کسی کو غیر حکیمانہ اقدام تک لے جائے تو وہ پسندیدہ نہ ہوگا۔ عزت نفس اور خودداری بلا شبہ پسندیدہ اعمال کی حیثیت رکھتے ہیں۔ لیکن اگر عزتِ نفس کسی کو اس حد تک لے جائے کہ وہ اس کے لیے اپنی غلطی کے اعتراف میں رکاوٹ بن جائے تو وہ بھلائی نہیں رہے گی بلکہ ایک برائی بن جائے گی۔ اسی طرح یہ ایک اچھی صفت ہے کہ آدمی کسی کی مدد نہ لے، وہ کسی کا احسان لینا گوارہ نہ کرے۔ وہ اپنی کفالت آپ کرنا چاہے ۔ لیکن کسی کا یہ مزاج اگر اس کے اندر فخر اور بڑائی کا جذبہ پیدا کرنے کا سبب بن جائے تو یہ اس کے حق میں ایک بری عادت ہوگی، نہ کہ کوئی اچھی عادت۔ آدمی کی یہ کمزوری ہے کہ کسی چیز میں کوئی امتیازی پہلو دیکھتا ہے تو اس کے بارے میں مبالغہ آمیز تصور قائم کر لیتا ہے۔ وہ اس کا مقام متعین کرنے میں حد سے آگے نکل جاتا ہے اسی کا نام غلو ہے۔ شرک اور شخصیت پرستی کی تمام قسمیں اصلاً اسی غلو کی پیداوار ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page