Urdu book · اسلام اور انتہا پسندی

جوابی مذہبیت

Urdu book, p. 75

By Maulana Wahiduddin Khan

مسجد تو بنا دی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نے من اپنا پرانا پاپى ہے برسوں میں نمازی بن نہ سکا یہ ایک علامتی واقعہ ہے جو موجودہ زمانے میں مسلمانوں کی بیشتر سرگرمیوں پر چسپاں ہوتا ہے۔ موجودہ زمانے میں ہماری اکثر دینی سرگرمیاں حقیقتاً جوابی سرگرمیاں ہیں۔ ان کا اصل محرک کسی غیر قوم کا کوئی عمل ہے، نہ کہ حقیقتاً اللہ اور اس کے رسول کا حکم۔ اس قسم کی مذ ہبیت جوابی مذ ہبیت ہے۔ وہ قومی محرک کے تحت پیدا ہوتی ہے، نہ کہ خدائی محرک کے تحت۔ چنانچہ مسلمانوں نے مادی اور جغرافی اور سیاسی اسباب کے تحت دیگر اقوام کو اپنا حریف سمجھ لیا ہے۔ وہ ان کو نیچا دکھا کر اپنے لیے قومی تسکین حاصل کرتے ہیں۔ ایسی تمام کاروائیاں بلا شبہ قومی کاروائیاں ہیں، خواہ بظاہر ان کو مذہب کے لباس میں کیوں نہ پیش کیا گیا ہو۔ مومن وہ ہے جو خدا سے ڈرے۔ جس کی تمام سرگرمیاں خدا کے زیر اثر انجام پاتی ہوں۔ اس کا رُکنا خدا کے لیے ہوتا ہو اور آگے بڑھنا خدا کے لیے۔ جو کام اس طرح کے جذ بات کے ساتھ کیا جائے اس کے ساتھ خدا کی مدد شامل رہتی ہے۔ وہ مفید نتائج پیدا کرتا ہے۔ مگر جو کام دوسری قوموں کی ضد میں کیا جائے اس سے صرف نفرت اور کش مکش بڑھے گی۔ اس کا نتیجہ صرف یہ ہوگا کہ صورت حال مزید پیچیدہ ہوتی چلی جائے اور کبھی وہ حسن خاتمہ تک نہ پہنچے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page