Urdu book · اسلام اور انتہا پسندی

اسلام اور انتہا پسندی

Urdu book, p. 74

By Maulana Wahiduddin Khan

اسلام میں غیرت مندی کو پسند کیا گیا ہے۔ لیکن کسی کی غیرت اگر اس حد تک بڑھے کہ اس کو اپنے خلاف سچائی کے اعتراف میں بھی غیرت آنے لگے تو ایسی غیرت غلو کی فہرست میں شامل ہو جائے گی۔ اسلام میں اہل علم کا احترام کرنا سکھایا گیا ہے۔ لیکن اگر اہل علم کے احترام کا مطلب یہ لیا جائے کہ اہل علم پر تنقید نہ کرو تو یہ غلو بن جائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ محض دینی جذبہ کسی عمل کو دینی نہیں بناتا۔ بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ وہ عمل خدا کے حکم اور رسول کے نمونہ کے مطابق ہو (الرسالہ، اپریل 1987)۔ جوابی مذہبیت مئی 1922 کا واقعہ ہے۔ لاہور کے شاہ عالمی دروازہ کے باہر ہندوؤں نے ایک مندر تعمیر کیا۔ یہ دیکھ کر مسلمانوں کے اندر یہ جذبہ جاگ اٹھا کہ مندر کے ساتھ مسجد بھی ہونا چاہیے۔ جس فضا میں مندر کے کلش چمک رہے ہیں وہاں مسجد کے مینار کی عظمت بھی دکھائی دینا ضروری ہے۔ چنانچہ فوراً چندہ ہوا اور مندر کے پاس ایک زمین مسجد کے لیے حاصل کی گئی۔ نماز عشاء کے بعد اس مسجد کی تعمیر شروع ہوئی۔ ساری رات کام ہوتا رہا۔ یہاں تک کہ جب صبح ہوئی تو لوگوں نے دیکھا کہ مندر کے مقابلہ میں ایک مسجد بنی ہوئی کھڑی ہے۔ یہی وہ واقعہ ہے جس سے متاثر ہو کر ڈاکٹر محمد اقبال نے اپنا مشہور شعر کہا تھا:

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page