عمر ضائع کردی
Urdu book, p. 77
By Maulana Wahiduddin Khan
تاہم انور شاہ کشمیری کو آخر عمر میں اس طریقِ تعلیم کی خامی کا احساس ہو گیا تھا۔ موصوف کے شاگرد مولانامفتی محمد شفیع (1897- 1976) ناقل ہیں کہ مولا نا کشمیری نے ان سے کہا: ہماری تمام کدو کاوش کا خلاصہ یہ رہا ہے کہ دوسرے مسلکوں پر حنفیت کی ترجیح قائم کریں ... مگر کیا حاصل ہے اس کا۔ اس کے سوا کچھ نہیں کہ ہم زیادہ سے زیادہ اپنے مسلک کو صواب محتمل الخطا ( درست مسلک جس میں خطا کا احتمال موجود ہے) ثابت کریں اور دوسرے مسلک کو خطا محتمل الصواب ( غلط مسلک جس کے حق ہونے کا احتمال موجود ہے) کہیں ... ہم تمام تحقیق و کاوش کے بعد یہی کہہ سکتے ہیں کہ یہ صحیح ہے، لیکن احتمال موجود ہے کہ یہ خطا ہو۔ اور وہ خطا ہے اس احتمال کے ساتھ کہ وہ درست ہو۔ قبر میں منکر نکیر نہیں پوچھیں گے کہ رفع یدین حق تھا یا ترک رفع یدین حق تھا۔ آمین بالجہر حق تھی یا بالسرف حق تھی ... جس چیز کو نہ دنیا میں نکھرنا ہے، نہ حشر میں۔ اس کے پیچھے پڑ کر ہم نے اپنی عمر ضائع کر دی ... اور جو صحیح اسلام کی دعوت تھی، جس کی دعوت انبیائے کرام لے کر آئے تھے ... آج وہ دعوت تو نہیں دی جا رہی ... ہم لگے ہوئے ہیں ان فروعی بحثوں میں۔ ( وحدتِ امت از مفتی محمد شفیع، لاہور، 1997، صفحہ 15- 13) بحوالہ تجدیدِ دین۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader