Urdu book · اسلام اور انتہا پسندی

مذہبی انتہا پسندی

Urdu book, p. 7

By Maulana Wahiduddin Khan

مذہبی انتہا پسندی مذہبی انتہا پسندی (religious extremism) کیا ہے۔ مذہبی انتہا پسندی دراصل دور زوال کا ایک ظاہر ہ ہے۔ کوئی امت جب بعد کے زمانے میں زوال (degeneration) کا شکار ہوتی ہے تو اُس وقت امت کے اندر وہ چیز پیدا ہو جاتی ہے جس کو مذہبی انتہا پسندی کہا جاتا ہے۔ زوال کا تعلق فطرت کے ایک قانون سے ہے۔ اس میں کسی امت کا کوئی استثنا نہیں۔ موجودہ زمانے میں امت مسلمہ اپنے دور زوال میں ہے، اور زوال کے دوسرے مظاہر کی طرح اس کے اندر مذہبی انتہا پسندی آ چکی ہے۔ قرآن اور حدیث میں مذہبی انتہا پسندی کے لیے جو لفظ استعمال کیا گیا ہے، وہ غلو ہے۔ کسی امت کی بعد کی نسلوں میں جب زوال آتا ہے تو اُس وقت فطری قانون کے تحت ایسا ہوتا ہے کہ امت کے افراد میں دین کی اسپرٹ ختم ہو جاتی ہے۔ اُن کے درمیان صرف دین کا فارم باقی رہتا ہے۔ مذہبی انتہا پسندی دراصل مبنی بر فارم مذہب کا دوسرا نام ہے۔ کسی امت کے دور زوال میں جب مبنی بر فارم مذہب کا رواج ہو جائے تو ایسا ہوتا ہے کہ دین کے ہر معاملے میں ظواہر کو اہم سمجھ لیا جاتا ہے۔ اُس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page