Urdu book · اسلام اور انتہا پسندی

غلو کیا ہے

Urdu book, p. 6

By Maulana Wahiduddin Khan

سیاست ہی کی بنیاد پر پورے دین کی تعبیر و تشریح کی جائے، یہ حد سے تجاوز کرنا ہے اور اس تجاوز کو غلو کہا جائے گا۔ اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے ایک صاحب نے کہا کہ آپ دعوت اور متعلقات دعوت پر اتنا زور دیتے ہیں ، وہ بھی غلو کی تعریف میں آتا ہے۔ میں نے کہا کہ ہر گز نہیں۔ دعوت الی اللہ کا معاملہ یہ ہے کہ وہ پیغمبر کی اہم ترین سنت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پیغمبر کی بعثت ہی اس کے لیے ہوئی ۔ مگر موجودہ زمانے میں یہ ہوا کہ مدعو قوموں کو مسلمانوں نے اپنا رقیب یا حریف (rival) سمجھ لیا۔ اس بنا پر ان کے اندر دعوت کا محرک (incentive) ختم ہو گیا۔ اس لیے ہم اس سنت نبوی کو زندہ کرنے کے لیے اس پر بہت زیادہ زور دیتے ہیں۔ اس کو ایمفیس (emphasis) کہا جائے گا، نہ کہ شفٹ آف ایمفیس (shift of emphasis)۔ غلو کبھی اصل دین میں نہیں ہوتا، غلو جب بھی ہوتا ہے، وہ ظواہر دین میں ہوتا ہے۔ اصل دین میں شدتِ بیان ہمیشہ مطلوب ہوتی ہے۔ اصل دین میں یہ شدت بیان خود قرآنی اسلوب ہے، اور یہی اسلوب ہم کو احادیث میں ملتا ہے۔ اصل دین میں شدتِ بیان کا یہ فائدہ ہے کہ اس سے آدمی کے اندر روحِ دین زندہ ہوتی ہے، اور روحِ دین کے زندہ ہونے سے دین کے تمام پہلو اپنے آپ زندہ ہو جاتے ہیں۔ روح دین میں شدت کا طریقہ ہی مطلوب طریقہ ہے، البتہ جو ظواہر دین ہیں ، ان میں شدت کے بجائے نرمی کا طریقہ اختیار کرنا چاہیے ۔ اسی فرق کو جاننے کا نام حکمت دین ہے۔ (الرسالہ ، دسمبر 2014)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page