سوال وجواب
Urdu book, p. 87
By Maulana Wahiduddin Khan
تکفیر و تفسیق کی ممانعت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ برائی کے معاملہ میں لوگوں کو بے عمل یا غیر جانبدار بنا دیا جائے۔ اس کا مطلب عمل کے صحیح رخ کو بتانا ہے۔ اور وہ یہ کہ برائی کے معاملے میں ہمارا طریقہ خیر خواہانہ نصیحت کا ہونا چاہیے۔ بقیہ چیزوں کو اللہ کے اوپر چھوڑ دینا چاہیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے اپنے رب سے دعا کی کہ وہ میری امت کو قحط سے ہلاک نہ کرے۔ اللہ نے میری یہ دعا قبول کرلی۔ اور میں نے دعا کی کہ وہ میری امت پر کسی دشمن کو مسلط نہ کرے۔ اللہ نے میری یہ دعا قبول کرلی۔ اور میں نے یہ دعا کی کہ وہ ان کو گروہوں میں نہ بانٹے کہ ان کا ایک گروہ ان کے دوسرے گروہ کو اپنی طاقت کا مزہ چکھائے۔ اللہ نے اس کو قبول نہیں کیا۔ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2890) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کسی تحریک کے غیر مطلوب ہونے کی پہچان کیا ہے۔ وہ پہچان یہ ہے کہ کیا اس تحریک کے ذریعہ مسلمان دوحصوں میں بٹ کر ایک دوسرے سے لڑ رہے ہیں۔ جب بھی کسی تحریک کا یہ نتیجہ نکلے کہ مسلمان دو گروہوں میں بٹ کر ایک دوسرے سے ٹکرانے لگیں تو یقینی طور پر ایسی تحریک ایک غیر مطلوب تحریک ہے۔ اس کو خدا کی مدد حاصل نہیں۔ ایسی تحریک کا اگر پھیلاؤ ہو تو یقینی طور پر یہ پھیلاؤ شیطان کی مدد سے ہوگا، نہ کہ اللہ کی مدد سے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader