سوال وجواب
Urdu book, p. 86
By Maulana Wahiduddin Khan
تک جاری رہا۔ یہاں تک کہ یہ نوبت آگئی کہ ان فتوؤں کے مطابق امت مسلمہ میں کوئی بھی شخص مومن ومسلم کی حیثیت سے باقی نہ رہا۔ آخر کار علمائے اتفاق عام کے ساتھ یہ فیصلہ کیا کہ تکفیر وتفسق کے اس کام کو بند کر دیا جائے ۔ علمائے نے اتفاق رائے کے ساتھ یہ اعلان کیا کہ: لَا نُكَفِّرُ أَحَدًا مِنْ أَهْلِ الْقِبْلَةِ (ہم کسی ایسے شخص کو کافر نہیں کہیں گے جو قبلہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھے )۔ یہی اس معاملہ میں صحیح مسلک ہے۔ قرون مشہود لہا بالخیر میں اس قسم کا تکفیری مشغلہ نہیں ملتا۔ تکفیری مشغلہ عباسی دور میں قدیم عراق میں متکلمین نے پیدا کیا۔ مگر بعد کو علمائے راسخین نے اس کو رد کر دیا اور یہ متفقہ فیصلہ کیا کہ کسی بھی حال میں اہل قبلہ کی تکفیر نہیں کی جائے گی۔ اہل قبلہ کی شرط اس قسم کی ایک چیز ہے جس کو تعلیق بالحال (a condition that can never occur) کہا جاتا ہے۔ کوئی بھی فرقہ کبھی ایسا نہیں کرے گا کہ وہ کعبہ کے بجائے کسی مندر یا چرچ کی طرف نماز پڑھے۔ پچھلے ہزار سال کے دوران کبھی کسی فرقہ نے ایسا نہیں کیا۔ ایسی حالت میں لَا نُكَفِّرُ أَحَدًا مِنْ أَهْلِ الْقِبْلَةِ کا مطلب دوسرے لفظوں میں یہ ہے کہ کوئی شخص جو اپنے آپ کو مسلمان کہے ہم بھی اس کو مسلمان کہیں گے۔ ہم اپنی طرف سے کسی کو کافر نہیں بتائیں گے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader