توحید کا تصور اسلام میں
Urdu book, p. 8
By Maulana Wahiduddin Khan
لگی ہوئی، ہماری دوربینیں وسیع کائنات میں آٹھ ہزار ملین سال نور تک نہ دیکھ سکیں ۔ ہمارے طبیعی علوم اچانک اپنی تمام اہمیت کھودیں۔ کائنات کا اس قدر درست طور پر وحدانی حالت میں ہونا بتاتا ہے کہ وہ صرف ایک خدا کے کنٹرول میں ہے۔ اگر دہ کئی خداؤں کے کنٹرول میں ہوتی تو یقیناً اس میں انتشار برپا ہو جاتا۔ مختلف خداؤں کی کش کش میں وہ درہم برہم ہو کر رہ جاتی۔ زمین پر ایک قانون کی حکمرانی ہوتی اور سیاروں پر دوسرے قانون کی ۔ "اللہ نے پیدا کی ہر چیز اور پھر ہر ایک کا ایک اندازہ مقرر کر دیا (فرقان ۲) طبیعیاتی مشاہدہ بتاتا ہے کہ کائنات کی ہر چیز کا ایک قانون ہے اور وہ انتہائی لزوم کے ساتھ اس پر قائم ہے۔ آئی رسبرگ (پروفیسر تطبیقی ریاضیات کوئن میری کالج لندن) کے الفاظ میں " کائنات تعجب خیز حد تک یکساں (Uniform) ہے۔ ہم خواہ کسی طور پر بھی اس کو دیکھیں ، کائنات کے اجزا رمیں وہی ترکیب اسی تناسب سے پائی جاتی ہے۔ زمین پر جو طبیعیاتی قوانین دریافت کئے گئے ہیں، وہ تحکمی اعداد (Arbitrary Numbers) مشتمل ہیں۔ جیسے الیکٹران کی مقدار مادہ کا تناسب ایک پروٹان کے مقدار مادہ (Mass) سے، جو کہ تقریباً 1840 کے مقابلہ میں ایک ہوتا ہے۔ یہی تناسب ہر جگہ اور ہر وقت پایا جاتا ہے۔ ایسا کیوں ہے۔ کہا ایک خالق نے تحکمی طور پر (Arbitrarily) انہیں اعداد کا انتخاب کر رکھا ہے" (سنڈے ٹائمز لندن ۴ دسمبر ۱۹۷۷) یہ واقعہ صاف طور پر بتاتا ہے کہ کائنات ہر آن ایک زیر دست ہستی کے کنٹرول میں ہے۔ جو خدا کائنات کا خالق ہے، وہی اس کا حکمراں بھی ہے۔ اس سلسلے میں یہ بات کوئی اہمیت نہیں رکھتی کہ " خدا اگر ہے تو ہم کو نظر کیوں نہیں آتا؟ ہم ایک ایسی دنیا میں ہیں جہاں ہمارے لئے اس کے سوا چارہ نہیں کہ چیزوں کو دیکھے بغیر مانیں ۔ یہ صرف خدا کے عقیدہ کا سوال نہیں ہے۔ ہم جس کائنات میں ہیں اور حسی کو ہم بہر حال مانتے ہیں، اس میں بے شمار چیزیں ہیں جن کو ہم نہیں دیکھتے اور نہیں دیکھ سکتے۔ مگر اس کے باوجود ہم ان کو ماننے پر مجبور ہیں۔ خدا کے سوا موجودہ کائنات کو بھی ہم ایمان بالغیب کا طریقہ اختیار کئے بغیر نہیں سمجھ سکتے۔ مثال کے طور پر ایٹم میں کسی قسم کے ذرات (Particles) تسلیم کئے گئے ہیں۔ ان میں سے ایک نیوٹرینو (Neutrino) ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس ذرہ میں کوئی برقی چارج نہیں ہوتا۔ حتیٰ کہ اس میں کوئی مادہ (Mass) بھی نہیں ہوتا۔ گویا وہ ایک لاشے کا وجود ہے۔ ایک سائنس داں کے الفاظ میں : Neutrino is a tiny bundle of nothing (3.1.1979) نیوٹرینولا شے کا ایک چھوٹا سا پلندہ ہے۔ اس لاشے کا وجود کیوں تسلیم کیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایٹم میں بعض ایسے خواص ظاہر ہوتے ہیں جن کی توجیہہ اس کے بغیر نہیں۔ یعنی کہ ایٹم کے ڈھانچہ میں ایک غیر ذرہ (Non-Particle) کا وجود تسلیم کیا جائے۔ اس مفروضہ نیوٹرینو کے عجیب و غریب اوصاف میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ کسی بھی مادی جسم سے بغیر روکے ٹوک گزر سکتا ہے۔ حتیٰ کہ وہ اپنے سفر میں پورے کرہ ارض کو اس کے اندر سے پار کر سکتا ہے۔ نیوٹرینو کی اس خصوصیت کو انسانی استعمال میں لانے کے لئے امریکہ میں تجربات ہو رہے ہیں۔ سائنس دانوں کا خیال ہے کہ اگر نیوٹرینو کی اس خصوصیت کو قابل استعمال بنایا جا سکا تو پیغام رسانی کی دنیا میں انقلاب آجائے گا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader