Urdu book · اسلام دینِ فطرت

توحید کا تصور اسلام میں

Urdu book, p. 7

By Maulana Wahiduddin Khan

توحید کا تصور اسلام میں کائنات کا ایک خالق ہے۔ اس نے اپنے منصوبہ کے مطابق اس کو بنایا ہے اور وہی اس کو چلا رہا ہے۔ جس طرح ساری کائنات خدا کی اطاعت کر رہی ہے اسی طرح انسان کے لئے بھی صحیح رویہ یہ ہے کہ وہ اپنے خالق کا فرماں بردار بن کر زندگی گزارے۔ تمام انبیا ر یہی بتانے کے لئے آئے اور کائنات اپنے پورے وجود کے ساتھ ہر آن آدمی کو یہی سبق دے رہی ہے ۔ یہ ہے اسلامی توحید اور اس مقالہ میں مجھ کو اسی نظریہ توحید کی وضاحت کرنی ہے۔ کیا تمہیں شک ہے اللہ کے بارے میں جس نے زمین و آسمان کو پھاڑا (ابراہیم (۱۰) قرآن کا یہ ارشاد بظاہر ایک سوال ہے مگر حقیقتاً وہ سوال کا جواب ہے۔ اس آیت میں فاطر (پھاڑنے والا) کا لفظ نہ وجود خدا وندی کے حق میں ایک قطعی دلیل ہے جس کو دوسرے مقام پر ان لفظوں میں بیان کیا گیا ہے کیا انکار کرنے والوں نے نہیں دیکھا کہ زمین و آسمان باہم ملے ہوئے تھے۔ پھر ہم نے ان کو جدا کر دیا (انبیاء (۳۰) اندازہ کیا گیا ہے کہ کائنات کا موجودہ دائرہ (Radius) کم از کم دس ہزار ملین سال نور ہے۔ فلکیاتی مطالعہ نے بتایا ہے کہ کائنات ایک حالت پر ٹھہری ہوئی نہیں ہے بلکہ یکساں رفتار سے اپنے چاروں طرف پھیل رہی ہے۔ یہ عمل مسلسل جاری ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ماضی میں کسی وقت کائنات سمٹی ہوئی حالت میں تھی۔ فلکیات دانوں کے خیال کے مطابق ابتدا پوری پوری کائنات ایک بڑے ایٹم (Super Atom) کی صورت میں تھی۔ اس کے تمام اجزار بے حد قوت کے ساتھ اندر کی طرف کھینچے ہوئے تھے۔ تقریباً پندرہ ملین سال پہلے اس ابتدائی مادہ میں ایک دھما کہ یا اخراج طاقت (Energy Release) کا واقعہ ہوا جس کے نتیجہ میں سپر ایٹم کے اجزا اپنے مرکز سے ٹوٹ کر اپنے چاروں طرف پھیلنے لگے تا کہ موجودہ کائنات کو وجود مل سکے۔ سپر ایٹم کے اندر اس وقت جو اسباب کام کر رہے تھے وہ تمام تصرف اندر کی طرف کھینچنے اور سمٹنے کے تھے۔ اپنے ذاتی قانون کے برخلاف اس کے اجزار کا باہر کی طرف سفر شروع کرنا لازما کسی خارجی طاقت کی مداخلت ہی سے ہو سکتا تھا۔ یہ واقعہ ہم کو مجبور کرتا ہے کہ ہم کائنات کے ماسوا ایک آزاد ہستی کا وجود تسلیم کریں جو تمام طاقتوں کی مالک ہے اور جس نے اپنے شعوری عمل سے ابتدائی مادہ کے اندر یہ غیر معمولی حرکت پیدا کی۔ زمین و آسمان میں اگر ایک خدا کے سوا کوئی اور خدا ہوتا تو ضر وران میں بگاڑ پیدا ہو جاتا (انبیاء ۲۲) قرآن کے یہ الفاظ اُس کائناتی واقعہ کی طرف اشارہ کر رہے ہیں جو اس بات کا ثبوت فراہم کرتا ہے کہ یہ مافوق طاقت صرف ایک ہے، کئی نہیں۔ تمام طبیعی علوم حیرت انگیز طور پر اس کی تصدیق کرتے ہیں کہ پوری کائنات ایک ہی قانون کے تحت چل رہی ہے۔ جو قوانین زمین پر کام کر رہے ہیں، وہی نہایت صحت کے ساتھ اجرام سماوی میں بھی کار فرما ہیں۔ یہی یقین تھا جس نے انسان کو آمادہ کیا کہ وہ کھربوں ڈالر خرچ کر کے خلائی مشینیاں بنائے اور ان کو چاند اور مریخ پرعین اپنے اندازہ کے مطابق اتارسکے۔ اگر ساری کائنات ایک قانون کے تحت مکمل صحت کے ساتھ عمل نہ کر رہی ہو تو زمین پر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page