Urdu book · اسلام دینِ فطرت

قرآن اور کائنات

Urdu book, p. 14

By Maulana Wahiduddin Khan

قابل پیشین گوئی کردار ــــ کائنات کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ وہ اتنی صحت کے ساتھ حرکت کرتی ہے کہ مستقبل کے واقعات کا پیشگی اندازہ کیا جا سکتا ہے (یونس ۵) وہ مکمل طور پر قابل پیشین گوئی (Predictable) ہے۔ یہی چیز انسان سے بھی اس کی زندگی میں مطلوب ہے۔ انسان کو اتنا پابند اور اتنا ذمہ دار ہونا چاہیے کہ پیشگی طور پر یہ اندازہ لگایا جاسکے کہ کس موقع پر اس کی طرف سے کس قسم کا رد عمل ظاہر ہوگا۔ کوئی معاملہ کوئی معاملہ کرتے وقت پہلے سے یقین کیا جاسکے کہ کون سا رویہ اس کی طرف سے سامنے آئے گا۔ اس کے قول پر اسی طرح بھروسہ کیا جاسکے جس طرح اپنی گھڑیوں کو درست کرنے کے لیے ہم سورج کی رفتار پر بھروسہ کرتے ہیں۔ توافق ــــ کائنات کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ اس کے تمام اجزاء، حد درجہ توافق Harmony کے ساتھ عمل کرتے ہیں (یٹس ۴۰) سورج اور چاند کبھی ایک دوسرے کے حریف نہیں بنتے۔ ستاروں اور ستاروں میں کبھی ٹکراؤ نہیں ہوتا۔ ہوا اور پانی اور دھوپ اور مٹی سب آپس میں کامل ہم آہنگ ہو کر کام کرتے ہیں۔ تقریبا ایک سو عناصر اور ان سے بنے ہوئے بے شمار مادی مجموعے اس قدر متوافق طور پر اپنے اپنے فرائض انجام دیتے ہیں کہ ان میں کبھی باہمی آویزش کا مشاہدہ نہیں کیا گیا۔ اب انسان کو بھی یہی کرنا ہے کہ وہ باہمی کشمکش سے مکمل طور پر بچتے ہوئے اپنے اپنے حصہ کا کام انجام دے۔ ہر انسان دوسرے انسان سے ٹکرائے بغیر اپنا فریضہ حیات پورا کرے۔ نتیجہ پسندی ــــ کائنات کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ اس کی سرگرمیاں ہمیشہ ایک مفید انجام کی طرف جاتی ہیں (رعد ۱۷) زمین کی گردش، رات دن کا آنا جانا، بارش کا برسنا اور موسموں کا بدلنا، اور دوسری تمام سرگرمیاں نتیجہ پسند (Result Oriented) ہیں۔ سب کی سب نتیجہ خیز رخ پر سفر کرتی ہیں۔ فطرت کو آئندانہ طور پر کام کرنے کا موقع دیا جائے تو وہ کبھی کسی غیر مفید انجام پر ختم نہیں ہوتی۔ یہی اصول انسان کو بھی اپنی زندگی میں اختیار کرنا ہے۔ اس کی سرگرمیوں کو ہمیشہ نتیجہ رخی، بالفاظ دیگر مفید انجام کا حامل ہونا چاہیے۔ ہر ایسی سرگرمی سے اس کو مکمل طور پر دور رہنا چاہئے جو عملائے نتیجہ ہو کر رہ جائے یا کوئی ناپسندیدہ نتیجہ برآمد کرنے والی ہو۔ ارتقائی طریقہ ــــ کائنات کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ وہ چھلانگوں میں سفر نہیں کرتی بلکہ ارتقائی انداز میں واقعات کو ظہور میں لاتی ہے (ابراہیم ۲۷) درخت اچانک طلسماتی طور پر زمین کے اوپر کھڑا نہیں ہو جاتا بلکہ طویل مدت کے اندر تدریجی طور پر وجود میں آتا ہے۔ یہی تمام چیزوں کا حال ہے۔ انسان کو بھی اسی طریقہ کی پیروی کرنی ہے۔ اس کے لئے بھی ضروری ہے کہ وہ تدریجی اور ارتقائی طور پر نتائج حاصل کرنے کا منصوبہ بنائے نہ کہ چھلانگ لگا کر منزل تک پہنچنے کی کوشش کرے یکسانیت ــــ کائناتتی چیزوں میں ظاہر و باطن کا کوئی فرق نہیں۔ وہ اندر اور باہر یکساں ہیں۔ سورج اپنی ذات میں جیسا ہے ، ٹھیک اسی شکل میں وہ ذرہ سرزوں کے سامنے بھی طلوع ہوتا ہے۔ یہی بات انسان سے قول و عمل کی یکسانی کی صورت میں مطلوب ہے ۔ آدمی کو چاہئے کہ جو اس کے دل میں ہے وہی وہ زبان پر لائے ۔ جیسا کچھ وہ عمل میں ہے ویسا ہی لفظوں میں بھی اپنے کو ظاہر کرے۔ اس سے کسی کو منافقت یا دروغی کا تجربہ ہر گز نہ ہو۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page