Urdu book · اسلام دینِ فطرت

خدائی اخلاقیات کا ظہور کائنات میں

Urdu book, p. 15

By Maulana Wahiduddin Khan

خدائی اخلاقیات کا ظہور کائنات میں حقیقت یہ ہے کہ حکمت و معنویت کا جو واقعہ وسیع تر کائنات میں خدا اپنے براہ راست کنٹرول کے تحت ظہور میں لا رہا ہے وہی واقعہ انسان کو اپنی زندگی میں ذاتی کنٹرول کے تحت وجود میں لانا ہے۔ جو واقعہ خدا نے اپنی کائنات میں مادی سطح پر قائم کر رکھا ہے وہی انسان کو اپنی زندگی میں اخلاقی اعتبار سے بروئے کار لانا ہے۔ ــــ کائناتی سطح پر جو چیز حدید (لوہا) کی شکل میں پائی جاتی ہے، وہ انسانی سطح پر پختہ کردار داری کی صورت میں مطلوب ہے۔ کائناتی سطح پر جو چیز پتھریلی زمین سے چشمہ کی صورت میں بہہ نکلتی ہے، وہ انسان سے نرم مزاجی کی صورت میں مطلوب ہے۔ کائناتی سطح پر جو چیز ائل قوانین کی صورت میں پائی جاتی ہے، وہ انسانی سطح پر ایفائے عہد کی صورت میں مطلوب ہے۔ کائناتی سطح پر جو چیز چمک اور لذت اور رنگ کی صورت میں پائی جاتی ہے وہ انسانی سطح پر خوش معاملگی کی صورت میں مطلوب ہے۔ کائناتی سطح پر کھربوں ستاروں کی ایک کہکشاں مسلسل حرکت کرتی ہے۔ مگر اس کے ستاروں میں کوئی ٹکرائو نہیں ہوتا۔ حتیٰ کہ ایک کہکشانی جھرمٹ کرتا دوسرا کہکشانی جھرمٹ میں داخل ہوتا ہے اور نہایت تیز سفر کرتا ہوا باہر نکل جاتا ہے۔ مگر دونوں جھرمٹوں میں کوئی تصادم نہیں ہوتا۔ یہی واقعہ انسانی زندگی میں اس طرح مطلوب ہے کہ انسانی مجموعے اپنی اپنی سرگرمیوں میں مصروف ہوں۔ مگر ان میں کبھی ایک دوسرے سے نزاع اور ٹکرائو کی نوبت نہ آئے۔ درخت حساب ہوا ( کاربن) کو لے لیتا ہے اور اس کے بدلے اچھی ہوا ( آکسیجن) ہماری طرف لوٹا دیتا ہے۔ یہی بات انسانی سطح پر اس اصول کی صورت میں مطلوب ہے کہ " جو تمھارے ساتھ برا سلوک کرے تم اس کے ساتھ اچھا سلوک کرو" کائنات میں کوئی چیز کسی کی کاٹ میں لگی ہوئی نہیں ہے۔ ہر ایک پوری یک سوئی کے ساتھ صرف اپنا اپنا حصہ ادا کرنے میں مصروف ہے۔ یہی چیز انسانی سطح پر اس شکل میں مطلوب ہے کہ وہ ہمیشہ مثبت جد و جہد کرے، منفی کارروائیاں کرنے سے مکمل طور پر پرہیز کرے۔ کائنات میں دوبارہ گردش (Recycle) کا اصول کارفرما ہے۔ پتی درخت سے گر کر ضائع نہیں ہوتی بلکہ کھاد بن جاتی ہے۔ فضلات دوبارہ استعمال ہونے کے لئے گیس میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ پانی بھاپ بن کر اڑتا ہے اور اس کے بعد پھر سمندر میں واپس آجاتا ہے۔ یہی چیز انسانی زندگی میں اس طرح مطلوب ہے کہ انسان کا خرچ کیا ہوا پیسہ دوبارہ انسان کے لئے مفید بنے۔ ایک انسان کی چھیڑی ہوئی جد و جہد دوسرے انسانوں کو اچھے ثمرات کا تحفہ دے۔ میدانی علاقوں میں پانی زمین کے نیچے ملتا ہے اس لئے میدانی درخت نیچے گہرائی میں اپنی جڑیں لے جاتے ہیں۔ اس کے برعکس پہاڑی ڈھلوانوں پر پانی صرف اوپر ہی سطح پر ملتا ہے، اس لئے پہاڑی درخت اپنی جڑیں اوپر اوپر پھیلاتے ہیں۔ یہی چیز انسانی زندگی میں اس طرح مطلوب ہے کہ وہ اپنی جد و جہد میں حالات سے مطابقت (Adjustment) کا طریقہ اختیار کرے نہ کہ حالات سے لڑنے کا ۔ کائنات ذرہ سے لے کر ستاروں تک بے حد تیز سفر میں مصروف ہے۔ وہ ہر آن ایک بہت بڑے کارخانہ کی طرح کام کر رہی ہے۔ مگر اس میں کہیں بھی شور سنائی نہیں دیتا۔ یہی چیز انسانی زندگی میں اس طرح مطلوب ہے کہ وہ خاموش جد و جہد کا طریقہ اپنائے، شور وغل کی سیاست چلانے سے مکمل پرہیز کرے ۔ کائنات میں عظیم انسان سطح پر بے شمار

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page