Urdu book · اسلام دینِ فطرت

اسلام دین فطرت

Urdu book, p. 19

By Maulana Wahiduddin Khan

جذبات کا مرکز بناتا ہے۔ یہ اپنے آپ کو مکمل طور پر اللہ کے حوالے کرنا ہے۔ یہ اس بات کا فیصلہ کرنا ہے کہ آدمی اپنی امیدوں اور تمناؤں، اپنے اندیشوں اور التجاؤں کا مرکز اللہ کو بنائے گا۔ وہ کہیں اور جینے کے بجائے اپنے رب میں جئے گا۔ آدمی کی امیدیں اور اس کے احساسات جہاں اٹکے ہوئے ہوں، وہیں وہ آدمی جی رہا ہے۔ اس اعتبار سے دیکھیے تو ہر آدمی، خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا، کہیں نہ کہیں جی رہا ہوتا ہے۔ کوئی اپنے گھر بار اور اپنے بال بچوں میں جیتا ہے۔ کوئی اپنے معاش اور کاروبار میں جیتا ہے۔ کوئی اپنے سیاسی مشاغل اور قبادتی مصروفیات میں جیتا ہے، کوئی اپنی عزت اور اقتدار کے خوابوں میں جیتا ہے۔ غرض ہر آدمی کہیں نہ کہیں جی رہا ہے۔ مگر یہ تمام جینا جاہلیت کا جینا ہے۔ یہ اپنا آشیانہ ایسی شاخوں پر بناتا ہے جن کا حقیقت کوئی وجود نہیں۔ حقیقی جینا یہ ہے کہ آدمی اپنے رب میں جینے لگے۔ وہ اس سہارے کو پکڑ لے جس کے سوا اس کائنات میں کسی کے لئے کوئی سہارا نہیں۔ وہ اللہ کی یاد کو لے کر سوئے اور اللہ کی یاد کے ساتھ صبح کرے ۔ وہ اسی کے بھروسہ پر رُکے اور اسی کے بھروسہ پر چلے۔ وہ اسی کے لئے بولے اور اسی کے لئے خاموشی اختیار کرے۔ ایمان کی مثال بجلی کی کرنٹ کی سی ہے۔ پاور ہاؤس سے بجلی کی کرنٹ جب کارخانہ میں پہنچتی ہے تو سارا کارخانہ جگمگا اٹھتا ہے۔ اس کی تمام کلیں حرکت میں آجاتی ہیں۔ اسی طرح جب کسی بندے کا اپنے رب سے ایمانی تعلق قائم ہوتا ہے تو اس کے اندر اچانک ایک نئی روشنی آجاتی ہے ، اس کی فطرت جاگ اٹھتی ہے۔ ایمان اس کے قلب کو گرمانے والا اور اس کی روح کو تتر پانے والا بن جاتا ہے۔ وہ اس کے اندر ایک نئی آگ لگا دیتا ہے۔ وہ انسان جو پہلی بار اپنی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا تھا، وہ دوبارہ ایمان کے کوکھ سے ایک نیا جنم لیتا ہے، وہ اب خدا سے الگ نہیں رہتا بلکہ خدا میں شامل ہو جاتا ہے۔ ایک شخص کو کسی سے محبت ہو تو جسمانی طور پر وہ اس سے جدا رہتے ہوئے بھی حیاتی طور پر پردہ اس سے مل جاتا ہے۔ وہ ہر چیز میں اسی کا جلوہ دیکھنے لگتا ہے۔ یہی حال اللہ پر ایمان لانے والے کا ہوتا ہے۔ وہ آسمان کی وسعتوں میں خدا کی عظمت کا مشاہدہ کرتا ہے۔ طوفانوں کی قہر مانی میں اس کو خدا کا جلال دکھائی دیتا ہے۔ چڑیوں کے چہچہے میں اس کو خدا کے نغمے سنائی دیتے ہیں۔ سورج نکلتا ہے تو اس کو محسوس ہوتا ہے کہ خدا نے اپنا نورانی ہاتھ اس کی طرف بڑھایا ہے۔ وہ درختوں کو دیکھتا ہے تو اس کو ایسا معلوم ہوتا ہے گویا خدا کی تخلیقی کہانی سر سبز صفحات کی صورت میں زمین کے اوپر پھیلا دی گئی ہے۔ ہوا کا جھون٘کا جب اس کو چھوتا ہے تو وہ اس کے لئے خدا سے اتصال کے ہم معنی بن جاتا ہے۔ غرض جو شخص خدا کا مومن بن چکا وہ ہر آن خدا کے اتھاہ سمندر میں غوطہ لگاتا رہتا ہے۔ ہر تجربہ جو اس کے ساتھ گزرتا ہے وہ اس کو خدا سے ملانے والا بن جاتا ہے۔ وہ خدا کا ہو جاتا ہے اور خدا اس کا۔ اللہ پر ایمان ایک ایسے خدا پر ایمان ہے جو ساری کائنات کا خالق، مالک اور پروردگار ہے۔ اسی نے سب کچھ بنایا ہے، اسی کے سہارے ہر چیز قائم ہے، اس کے بغیر کسی چیز کا کوئی وجود نہیں۔ ایمان آدمی کے اندر اس شعور کو زندہ کرتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو اس حیثیت سے دیکھے لگتا ہے کہ وہ ایک خدا کا بندہ ہے، ہر چیز میں،

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page