Urdu book · اسلام دینِ فطرت

اسلام دین فطرت

Urdu book, p. 18

By Maulana Wahiduddin Khan

اسلام دین فطرت عن ابی عبد الرحمن عبد الله بن عمر بن الخطاب حضرت عبد اللہ بن عمر رض کہتے ہیں۔ میں نے رسول اللہ قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا۔ اسلام کی بنیاد يقول: بني الاسلام على خمس شهادة ان پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے۔ گواہی دینا کہ اللہ کے لا اله الا الله دان محمد العبد و رسوله، سوا کوئی الٰہ نہیں اور محمد اس کے بندے اور رسول و اقام الصلوة وايتاء الزكوة وحج البيت، ہیں۔ اور نماز قائم کرنا۔ اور زکوٰۃ ادا کرنا اور بیت اللہ وصوم رمضان (رواه البخاری و مسلم) کا حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔ بعض روایتوں میں یہ الفاظ ہیں کہ اسلام کی تعمیر پانچ ستونوں (خمس دعائم) پر کی گئی ہے کتاب الصلوۃ محمد بن نصر المروزی) ایک عمارت اپنی تفصیلی صورت میں بہت سے اجتراز کا مجموعہ ہوتی ہے۔ مگر ساری عمارت جس چیز کے اوپر کھڑی ہوتی ہے وہ چند کھمبے (Pillars) ہوتے ہیں۔ اسی طرح اسلام کے لئے بھی یہ پانچ چیزیں کھمبے کا درجہ رکھتی ہیں۔ ان کے مضبوط ہونے سے اسلام مضبوط ہوتا ہے اور ان کے کمزور ہونے سے اسلام کمزور ہو جاتا ہے۔ ہر آدمی کی ہستی ایک زمین کی مانند ہے۔ اگر وہ اپنی اس زمین پر خدا کی پسند والی عمارت کھڑی کرنا چاہتا ہے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ سب سے پہلے وہ ان پانچ کھمبوں کو پوری مضبوطی کے ساتھ قائم کرے۔ ان کھمبوں کو بگاڑے بغیر نہ فرد کی سطح پر اسلام کا ظہور ہو سکتا ہے اور نہ سماج کی سطح پر۔ اسلام آدمی کے اندر جو زندگی پیدا کرنا چاہتا ہے وہ ایک لفظ میں عبادت یا خدا پرستی کی زندگی ہے۔ تاہم اپنی تفصیلی صورت میں وہ پانچ چیزوں کے مجموعہ کا نام ہے: ایمان، نماز، روزہ ، زکوٰۃ اور حج۔ یہ پانچ چیزیں پانچ رسمیست نہیں ہیں بلکہ پانچ اوصاف ہیں۔ یہ ان مطلوب چیزوں کا خلاصہ ہے جو ہمارا مالک، ہماری زندگیوں میں دیکھنا چاہتا ہے۔ اگر یہ پانچ اوصاف آدمی کے اندر حقیقی طور پر پیدا ہو جائیں تو گویا اس کے اندر وہ بنیادی صلاحیت پیدا ہو گی جس کے بعد یہ امید کی جاسکتی ہے کہ اس کی زندگی میں اس ربانی کردار کا ظہور ہو جس کو اسلام ایک ایک شخص کی زندگی میں پیدا کرنا چاہتا ہے۔ ایمان کا مطلب خدائی حقیقتوں پر یقین ہے۔ نماز کی حقیقت یہ ہے کہ آدمی اللہ کی بڑائی کے آگے اس طرح جھکے کہ اپنی بڑائی کا احساس اس کے اندر سے ختم ہو جائے ۔ روزہ اللہ کے بھروسے پر صبر کرنے کا نام ہے۔ زکوٰۃ یہ ہے کہ آدمی دوسرے کا حق پہچانے تا کہ خدا اس کو اس کے حصہ سے محروم نہ کرے۔ حج سے یہ مراد ہے کہ خدا کے بندے خدا کے گرد متحد ہو جائیں ۔ یہ سب اپنی اپنی حقیقت کے اعتبار سے اوصاف ہیں نہ کہ محض خارجی مراسم ۔ گویا کہ یقین، بے نفسی، صبر، حق شناسی اور اتحاد وہ پانچ صفاتی کھمبے ہیں جن کے اوپر اسلامی زندگی کا گھر بنتا ہے۔ ۱- اللہ کو اپنا الہ بنانے کا اققرار اس کو اپنا سب کچھ بنانے کا معاہدہ ہے۔ یہ اللہ کو اپنے احساسات اور

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page