Urdu book · اسلام دینِ فطرت

انسان کی تلاش

Urdu book, p. 36

By Maulana Wahiduddin Khan

انسان کی تلاش انسان ایک ایسی دنیا چاہتا ہے جہاں وہ اپنے خوابوں کی تعبیر پا سکے، جو عیب اور محدودیت سے خالی ہو۔ مگر موجودہ دنیا میں اس کو یہ چیز حاصل نہیں ہوتی۔ ڈاکٹر سی وی۔ رمن ہندوستان کے مشہور ترین سائنس داں ہیں۔ انھوں نے اٹھارہ سال کی عمر میں ایم اے پاس کیا۔ ان کو سائنس کا نوبیل انعام ملا۔ ان کی ایک سائنسی تحقیق (۱۹۲۸) نے رمن ایفیکٹ کے نام سے عالمی شہرت حاصل کی۔ بنگلور میں ان کے نام پر رمن انسٹی ٹیوٹ قائم ہے۔ ان کو اپنے سائنسی مطالعہ میں اتنا انہماک رہتا تھا کہ وہ ملاقاتیوں کی آمد کو بالکل پسند نہیں کرتے تھے۔ ایک بار انھوں نے ایک آنے والے کے پرچہ ملاقات کو دیکھ کر کہا: "یہ ملنے کے لئے آنے والے اس ابتدائی آداب کو بھی نہیں جانتے کہ مجھے تنہا رہنے دیں۔ ٹیلی فون کی گھنٹی بجتی تو اکثر وہ ”ایس“ یا ”نو“ کہہ کر رسیور رکھ دیتے۔ ان کے یہاں کثرت سے خطوط آتے تھے جن کو بس ایک نظر دیکھنے کے بعد وہ پھاڑ کر پھینک دیتے تھے۔ سیاست دانوں کی بابت ایک بار انھوں نے کہا: " انڈیا میں کامیاب ہونے کے لئے آج کل جو چیز درکار ہے وہ صرف یہ کہ آپ کے سر پر ایک گاندھی ٹوپی ہو اور اس کے نیچے کچھ نہ ہو۔“ ڈاکٹر رمن کی خود اعتمادی اتنی بڑھی کہ انھوں نے مذہب کا بھی انکار کر دیا۔ انھوں نے ایک بار ایک اخباری نمائندہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: " نہ کوئی جنت ہے اور نہ کوئی دوزخ۔ اور نہ موت کے بعد آدمی کا کوئی وجود ہے “ مگر آخر عمر میں ڈاکٹر رمن سخت مایوسی کا شکار ہو گئے۔ نومبر ۱۹۷۰ میں اپنے انتقال سے کچھ پہلے انھوں نے کہا تھا ” میری زندگی مکمل طور پر ایک ناکام زندگی رہی“ : My life has been an utter failure (T.O.I. 21-1-1979) ڈاکٹر رمن کو اتنا بڑا مقام حاصل ہونے کے باوجود یہ احساس کیوں ہوا کہ وہ مکمل طور پر ناکام ہیں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ اپنے خوابوں کی دنیا کو نہ پا سکے۔ ان کی سب سے بڑی تمنا یہ تھی کہ ملک میں سچی سائنس (True Science) قائم کریں۔ مگر جن ملکی سائنس دانوں سے انھوں نے کام لینا چاہا، ان کے متعلق ان کا تجربہ یہ رہا کہ وہ مغرب کی تقلید اور اس کی خیمہ برداری کے سوا اور کوئی مزاج نہیں رکھتے۔ وہ انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس (بنگلور) کے ڈائرکٹر تھے۔ انھوں نے چاہا کہ نازی حکومت کے نکالے ہوئے جرمن سائنس دانوں کو بلائیں۔ مگر حکومت نے اپنے سیاسی مصالح کے تحت اس کی اجازت نہ دی۔ پھر انھوں نے طے کیا کہ خود اپنا چندا جمع کیا ہو ا تمام سرمایہ لگا کر ذاتی طور پر ایک سائنسی ادارہ قائم کریں۔ مگر یہاں بھی ایک رکاوٹ حائل ہو گئی۔ ان کی رقم ایک پرائیویٹ بنک میں تھی جو دیوالیہ ہو گیا اور ان کی ساری رقم ڈوب گئی۔ وہ شخص جو عالی حوصلوں اور اونچی تمناؤں کے ساتھ زندگی کے میدان میں داخل ہوا تھا وہ ایک انتہائی مایوس انسان کی حیثیت سے اس دنیا سے رخصت ہوا۔ یہ ایک ” کامیاب مرد “ کا قصہ تھا۔ اب ایک ” کامیاب عورت “ کا حال دیکھئے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page