انسان کی تلاش
Urdu book, p. 37
By Maulana Wahiduddin Khan
”ہماری دنیا مکمل کیوں نہیں؟“ آدمی اس سوال کا جواب نہیں پاسکتا جب تک وہ آخرت کی دنیا کو نہ جان لے ۱۶ سالہ نندی اپنے درجے نگر کے مکان میں آئینہ کے سامنے کھڑی تھی۔ اسے نظر آیا کہ اس کی نازک گردن پر ایک گو مٹر ابھر رہا ہے۔ ”زندگی زیادہ مکمل اور بے عیب کیوں نہیں؟“ Why life could not have been more perfect. اس نے اپنے دل میں کہا۔ وہ ایک کامیاب رقاصہ تھی اور اپنی دو ہم پیشہ بہنوں (پدما اور جے شری) کے ساتھ ابھی ابھی کشمیر کے ایک رنگارنگ سفر سے یہ حوصلہ لے کر واپس آئی تھی کہ وہ اپنے پیشہ میں اور زیادہ توجہ دے کر اعلیٰ ترین رقاصہ بنے گی۔ اپنی بہنوں کے ساتھ اس نے ملک کے مختلف شہروں میں رقص کے ۱۵۰ مظاہرے کئے تھے۔ تینوں بہنیں ”ڈجے نگر سسٹرس“ کے نام سے مشہور ہوگئی تھیں۔ تاہم کل کی تقریب میں شرکت سے اس نے معذوری ظاہر کردی۔ بد نما گردن کے ساتھ وہ آرٹ کی محفل میں کیسے شریک ہوسکتی تھی۔ مگر خلاف امید اس کا گو مٹر بڑھتا گیا۔ گھر والوں کو پریشانی ہوئی ۔ ڈاکٹروں اور اسپتالوں کی دوڑ شروع ہوگئی۔ بالآخر صرف یہ جاننے کے لئے کہ ان کی نندی کینسر کے ناقابل علاج مرض میں مبتلا ہو چکی ہے۔ اسپتال میں داخلہ کے نویں دن اس کی موت کا پیغام آگیا۔ بستر پر ایک بے حس و حرکت جسم پڑا ہوا تھا اور دوست اور رشتہ دار چاروں طرف اس کو گھیرے ہوئے یہ سوچ رہے تھے "وہ ہنستی ہوئی روح آخر کہاں چلی گئی۔" یہ جولائی 1969ء کا واقعہ ہے۔ اس کے بعد نندنی کی بقیہ دو بہنوں نے "نرتینہ نندنی" کے نام سے ایک ڈانس اسکول کھولا۔ زندہ رہنے کے لئے کوئی مشغولیت ضروری تھی۔ دونوں باصلاحیت بہنوں کی شہرت میں مزید اضافہ ہوا۔ ان کو موقع ملا کہ وہ یورپ کے شہروں لندن، جینیوا، فرینکفرٹ، برلن، ایمسٹرڈم، پیرس وغیرہ میں اپنے کمال فن کی داد لے سکیں ۔ ان کو اپنے پیشہ میں اتنی کامیابی ہوئی کہ ایک اخبار نے لکھا : The gods of India can smile when the bells on the Vijayanagar sisters tinkle. ہندوستان کے دیوتا مسکرا اٹھتے ہیں جب دجنج نگر بہنوں کے گھونگر بجتے ہیں۔ فروری 1973ء میں دونوں "رقص رائیوں" کی شادی روایتی جشن کے ساتھ ہو گئی۔ شادی کے صرف دو دن بعد جے شری کے آئینہ نے بتایا کہ اس کی ٹھوڑی کے پاس ایک گوڈرا ابھر رہا ہے ۔ دواؤں اور آپریشن کے بعد گھر والوں نے سمجھا کہ ان کی جے شری اچھی ہو چکی ہے۔ مگر مقررہ جگہ پر درد کا باقی رہنا جے شری کو پریشان کئے ہوئے تھا۔ "بے وقوف نہ بنو جے شری " ڈاکٹر نے کہا "تمھارے جیسی جوان اور تندرست عورت کو کینسر کس طرح ہو سکتا ہے" اس کے بعد گوڈرا کا ایک ٹکڑا ٹاٹا میموریل اسپتال (بمبئی) کو جانچ کے لئے بھیجا گیا۔ رپورٹ نے بتایا کہ نندنی کے بعد اب اس کی بہن کو بھی کینسر ہو چکا ہے۔ مرض ٹھوڑی اور سینہ سے گزر کر پیروں تک پہنچ گیا۔ ہر قسم کے بہترین علاج کے باوجود تکلیف بڑھتی تھی ۔ یہاں تک کہ 18 مارچ 1974ء کو جے شری کی روح بھی ایک بھیانک جسم کو بستر پر چھوڑ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader