Urdu book · اسلام دینِ فطرت

خدا ـــ انسانی فطرت کی آواز ہے

Urdu book, p. 43

By Maulana Wahiduddin Khan

بلیک باکس ہوا باز اور کنٹرول ٹاور کے درمیان گفتگو کو ریکارڈ کرتا رہتا ہے۔ اس کو ہوائی جہاز کی دم میں رکھا جاتا ہے تاکہ ہوائی جہاز کے جلنے کے بعد بھی وہ بچ سکے۔ ہندوستانی افسروں نے ہوائی جہاز کے ملبے سے اس بلیک باکس کو حاصل کیا۔ جب اس بکس کا ٹیپ بجایا گیا تاکہ اس سے تفتیش میں مدد لی جاسکے تو معلوم ہوا کہ بالکل آخری لمحات میں روسی ہوا باز کی زبان سے جو لفظ نکلا وہ یہ تھا : Peter Save Us (سینٹ پیٹر ہم کو بچا) واضح ہو کہ پیٹر یا پیٹرس حضرت عیسیٰ کے بارہ حواریوں میں سے ایک تھے اور عیسائیوں کے یہاں بڑے بزرگ مانے جاتے ہیں۔ ۵۔ کون جانتا تھا کہ سٹالن کی اپنی لڑکی سویتلانہ (Svetlana Alliluyena) اس کے بعد عیسائی مذہب قبول کرے گی۔ سویتلانہ اشتراکی دنیا سے مایوس ہو کر ہندوستان آئی تھی ۔ ہو سکتا تھا کہ وہ کسی ہندوستانی مذہب میں پناہ لے۔ مگر ہمارے حکمرانوں کے لئے اس کا یہاں رہنا ہند۔ روس دوستی کے خلاف معلوم ہوا۔ چنانچہ مجبور ہو کر وہ یورپ چلی گئی ، اور وہاں عیسائیت کو اختیار کر لیا۔ سویتلانہ اپنی کتاب Only One Year (صرف ایک سال) میں لکھتی ہے کہ میں ماسکو ہی میں غیر مطمئن تھی اور اپنے قلب کی تسکین کے لئے کوئی چیز ڈھونڈ رہی تھی۔ وہ چیز مجھے بائبل کے ان جملوں میں مل گئی۔ خداوند میری روشنی اور میری نجات ہے مجھے کس کی دہشت۔ خداوند میری زندگی کا پشت پناہ ہے، مجھے کس کی ہیبت۔ خواہ میرے خلاف لشکر خیمہ زن ہو۔ میرا دل نہیں ڈرے گا۔ خواہ میرے مقابلہ پر جنگ برپا ہو۔ تو بھی میں خاطر جمع رہوں گا۔ زبور : ۲۷ ۶۔ آج کے روس میں اس کیفیت کے ابھرنے کے شواہد کثرت سے مل رہے ہیں۔ سولزنٹسین اور سخاروف اسی روحانی کش مکش کی ایک علامت ہیں۔ سولزنٹسین کو اگر نوبل انعام حاصل کرنے کی اجازت ملی ہوتی تو وہ اس رقم کو روسی عوام کے لئے ایک گھر جائ تعمیر کرنے میں صرف کرتا۔ سولزنٹسین کے ایک قریبی دوست ویلتیری پلینی سے پوچھا گیا کہ روسی سلطنت کا سب سے کمزور پہلو کیا ہے۔ اس نے بلا تردد جواب دیا : The hunger of ordinary people for moral ond spritual truth. "عام انسان کی یہ بھوک کہ وہ اخلاقی اور روحانی سچائی کو پاسکے"

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page