Urdu book · اسلام دینِ فطرت

نماز سے آغاز

Urdu book, p. 47

By Maulana Wahiduddin Khan

میں پورا کرتی ہے۔ جب ایک شخص نماز میں مشغول ہو تو وہ حیرت انگیز طور پر محسوس کرتا ہے کہ یہ خود اس کی اندرونی مانگ کا جواب ہے۔ نماز کے مختلف اعمال میں خود اس کے اپنے روحانی تقاضے پورے ہوتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اس کی پوری ہستی نماز میں اس طرح شامل ہو جاتی ہے کہ وہ محسوس کرتا ہے کہ وہ اور حقیقت اعلیٰ دونوں ایک دوسرے میں جذب ہو گئے ہیں۔ حتیٰ کہ جو شخص دور سے صرف نماز کا مشاہدہ کر رہا ہو، وہ بھی اس کی سادگی، اس کی عظمت اور انسانی وجود کے ساتھ اس کی مطابقت پر حیران رہ جاتا ہے۔ وہ کھلم کھلا محسوس کرنے لگتا ہے کہ معبود کی پرستش کا اس سے بہتر کوئی طریقہ ممکن نہیں۔ جہاں تک نجات آخرت کا سوال ہے آدمی کے لئے بالایمان نمازی ہونا ضروری ہے۔ مگر اس کی کیفیات کو پانے کے لئے رسمی ایمان کی ضرورت نہیں۔ ایک شخص اگر وہ سنجیدہ ہو، ایمان لائے بغیر بھی نماز کے متورہ طریقے میں اپنے آپ کو مشغول کرکے نماز کی کیفیات اور لذتوں کا ایک حصہ پا سکتا ہے۔ نماز کا یہ پہلو اس کے اندر ایک دعوتی قدر پیدا کر دیتا ہے۔ رہ کہ تاریخ اس کی علی تصدیق بھی کر رہی ہے کیونکہ مکہ میں، اسلام کے ابتدائی دور میں، قرآن کے بعد نماز ہی سب سے زیادہ لوگوں کو دین سے قریب کرنے کا ذریعہ بنی تھی ۔ دوسری قوموں میں دین کی اشاعت کے لئے موجودہ زمانے میں جس جو کام کرنے ہیں ان میں سے ایک کام یہ ہے کہ عالی سطح پر مسلم نوجوانوں کا ایک حلقہ قائم کیا جائے۔ اس حلقہ کا خاص مقصد خاموش اسلامی دعوت ہو۔ اس کے افراد تمام شہروں میں ہوں اور وہ ہر دن کسی نہ کسی ایسے پارک میں جائیں جہاں غیر مسلم مرد اور عورتیں تفریح کے لئے آتے ہوں۔ وہاں وہ ایک دو گھنٹہ اس طرح گزاریں کہ ان کی گفتگو اور اٹھنے بیٹھنے میں مکمل طور پر سنجیدگی کا اظہار ہو۔ ان کے پاس قرآن کا ترجمہ مہیا یا ایسی کوئی کتاب ہو جس میں پیمبر اسلام اور آپ کے اصحاب کے اخلاقی اور ایمانی واقعات درج ہوں۔ وہ آپس میں بیٹھ کر اس کو پڑھیں ۔ بالقصداً اپنی طرف سے کسی کے اوپر تبلیغ کی کوشش نہ کریں۔ البتہ اگر کوئی شخص خود سے ان کے حلقہ درس میں بیٹھنا چاہے تو اس کو عزت کے ساتھ بٹھائیں۔ کوئی سوال کرے تو انتہائی نرمی اور سنجیدگی کے ساتھ اس کا جواب دیں۔ جواب معلوم نہ ہو تو صفائی کے ساتھ کہیں کہ ہمیں اس کا جواب معلوم نہیں۔ ہم تحقیق کر کے اگلے دن آپ کو بتائیں گے۔ ان کے پاس نماز اور دوسری اسلامی تعلیمات کے بارے میں چھوٹے چھوٹے کتا پے مختلف زبانوں میں ہوں جو وہ شائقین کو مفت دے سکیں۔ پارک کے اس پروگرام کا سب سے اہم جزو نماز ہو۔ اس مقصد کے لئے غالباً عصر کی نماز زیادہ موزوں ہوگی۔ سب نوجوان مل کر نماز ادا کریں۔ نماز خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھیں ۔ ایسا ہر گز نہ کریں کہ جلدی جلدی پڑھ کر سلام پھیر دیں۔ چار رکعت نماز میں لگ بھگ ۲۰ منٹ صرف کئے جائیں۔ نماز اس طرح پڑھی جائے گویا ہم فی الواقع اللہ کے سامنے کھڑے ہیں اور اس کے سامنے اپنی بندگی کا اظہار کر رہے ہیں۔ یہ کام اگر کچھ برسوں تک مسلسل نہایت خاموشی اور سنجیدگی کے ساتھ کیا جائے تو اس کے غیر معمولی نتائج برآمد ہونگے مسجدوں میں نماز کی تحریک مسلمانوں کی اصلاح کے لئے کامیابی کے ساتھ چل رہی ہے۔ اسی طرح پارکوں میں نماز کی تحریک غیر مسلموں تک دین کا پیغام پہنچانے کے لئے چل پڑے تو ہماری ذمے داری کے دونوں تقاضے پورے ہو جائیں گے ۔ اور دنیا میں اگر خدانخواستہ اس کا کوئی نتیجہ نہ نکلا تو آخرت میں انشا ء اللہ ہمارا شمار ان لوگوں میں ہو گا جنھوں نے خلق اللہ کے سامنے حق کی گواہی دی تھی اذ ایک مومن کے لئے اتناہی کافی ہے۔ یہ بھی انتہائی ضروری ہے کہ یہ کام نظم کے ساتھ ہو۔ جو لوگ اس پروگرام میں شریک ہوں وہ باہم مشورہ سے ایک شخص کو " متکلم" مقرر کرلیں۔ وہی شخص کتاب پڑھے اور دوسری شخص بوقت ضرورت لے۔ بقیہ لوگ بالکل خاموش رہیں اور متکلم کے حق میں دل ہی دل میں دعا کرتے رہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کی مدد فرمائے اور اس کی زبان سے وہی کلمات نکالے جس میں حق اور خیر ہو۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page