ہجرت
Urdu book, p. 20
By Maulana Wahiduddin Khan
میں اپنا حصہ ادا کرنے کے معنی یہ ہیں کہ میں اور کچھ نہ کروں۔ وہ اپنے لئے اس کے سوا کوئی راہ نہیں پاتا کہ اپنی ضرورتوں کو انتہائی حد تک مختصر کرے۔ دنیا کے اندر اپنی تمناؤں کو ہمیشہ کے لئے دفن کردے اور اپنی ذات کے لئے کم سے کم مصروف رہ کر حق کی زیادہ سے زیادہ خدمات انجام دے۔ وہ مجبور ہوتا ہے کہ بالکل ناگزیر ضروریات کی فراہمی کے بعد جو وقت بھی ملے اس کو شہادت دین کی راہ میں لگا دے۔ دوسرے لفظوں میں اسلام کو اپنی انفرادی زندگی میں اختیار کرنا ہو تو صرف حرام چیزوں کو چھوڑ کر بھی کوئی شخص ”دیند ار“ بن سکتا ہے مگر اسلام کو اجتماعی زندگی میں قائم کرنے کی مہم شروع کیجئے تو آپ کو بہت سی حلال چیزوں سے بھی دستبردار ہونا پڑے گا۔ اس کے بغیر صحیح طور پر اس کام کی ابتداء بھی نہیں کی جاسکتی اور اس کو انجام تک پہنچانا تو بہت دُور کی بات ہے۔ پہلی صورت میں آدمی کے اوپر صرف اس کی اپنی ذمہ داری ہوتی ہے اور دوسری صورت میں وہ ساری خلق تک پیغام حق پہنچانے کا ذمہ دار بن جاتا ہے۔ یہ چیز آپ کی مصروفیتوں اور دقتوں میں بے پناہ اضافہ کر دیتی ہے۔ اس کا تقاضا ہے کہ آپ اسلام کے برسر حق ہونے اور اس کے سوا دوسرے تمام افکار و نظریات کے برسر حق ہونے کا بے پناہ یقین پیدا کریں تا کہ آپ اس کے پرجوش مبلغ بن سکیں ۔ آپ کو اسلام کا تفصیلی علم حاصل کرنا ہے تا کہ دوسروں کے سامنے اس کو واضح انداز میں پیش کر سکیں ۔ آپ کو ان غلط افکار و نظریات کے خلاف دلائل فراہم کرنے ہیں جنہوں نے انسانی ذہنوں کو متاثر کر رکھا ہے تا کہ باطل کو چھوڑ کر لوگوں کو حق کی طرف آنے پر آمادہ کیا جا سکے ۔ آپ کو ایک ایک شخص تک پہنچنا ہے اور اس کی نفسیات، اس کے حالات اور اس کی قوت فہم کے مطابق اسے بات سمجھانی ہے۔ آپ کو اسلامی اخلاق کا نہایت اعلیٰ نمونہ بننا ہے تا کہ آپ کی زندگی آپ کے دعوے کی تردید کرنے والی نہ ہو بلکہ اس کی صداقت پر گواہ ہو،

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader