ہجرت
Urdu book, p. 19
By Maulana Wahiduddin Khan
کی مرضی کے خلاف ہیں۔ اس کا دوسرا پہلو وہ ہے جس میں آدمی مجبور ہوتا ہے کہ اپنے جائز مفادات بھی خدا کی راہ میں قربان کر دے۔ ایسا اس لیے ہے کہ اسلام آدمی کو کرنے کا اتنا بڑا کام دے دیتا ہے کہ اس کے بعد پھر اسے کچھ اور کرنے کا موقع باقی نہیں رہتا۔ اس کی تو جہات اپنی ذات سے ہٹ کر ہمہ تن اسلام کی طرف لگ جاتی ہیں۔ اس لیے کہا گیا ہے کہ دنیا کے اندر مومن کی صرف ذمہ داریاں ہیں، یہاں اس کا کوئی حق نہیں ہے۔ اس کا جو کچھ حق ہے وہ خدا کے یہاں ہے اور وہیں وہ اسے پائے گا۔ اسلام کو قبول کرنے کا مطلب صرف یہ نہیں ہے کہ آدمی اپنی زندگی میں اس کو اختیار کر لے ۔ بلکہ عین اسی کے ساتھ اس کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ دوسروں کو اس کی طرف بلائے اور پورے معاشرہ میں اس کو قائم کرنے کی جدوجہد کرے۔ دین کا یہ دہرا تقاضا ہماری ذمہ داری کو صرف دوگنا نہیں کرتا بلکہ اس کو انتہائی حد تک دشوار بنا دیتا ہے۔ اگر چہ انفرادی زندگی میں ممکن حد تک دین کو اختیار کرنا بھی کچھ آسان کام نہیں ہے۔ یہ فتنوں سے بھری ہوئی دنیا میں اپنے اختیار اور اپنے ارادہ کو صرف صحیح سمت میں استعمال کرنا ہے۔ یہ خود مختار ہو کر اپنی مرضی سے اپنے آپ کو پابند بنا لینا ہے اور موت کی آخری گھڑی تک پابند بنائے رکھنا ہے۔ مگر دین کا دوسرا تقاضا ہے، یعنی دوسرے بندگانِ خدا تک خدا کے پیغام کو پہنچانا اور اس کے دین کو عملاً زمین کے اوپر قائم کرنے کی جدوجہد کرنا۔ یہ اتنا گراں بار تقاضا ہے کہ اس کا تصور بھی آدمی کو لرزا دینے کے لیے کافی ہے۔ یہ ایک ایسا عظیم اور جاں گسل کام ہے جو اس کی ساری قوت اور اس کا سب کچھ مانگتا ہے۔ دعوتِ حق اور اقامت دین کے علاوہ کسی کام میں وہ جتنا وقت اور قوت بھی صرف کرے گا اس کے معنی یہ ہیں کہ اس کے بقدر وہ اصل فریضہ کی ادائیگی میں کمی کر رہا ہے۔ آدمی جب اس حیثیت سے دین کو قبول کرتا ہے تو وہ فوراً محسوس کرتا ہے کہ اس کام

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader