جہاد
Urdu book, p. 24
By Maulana Wahiduddin Khan
جہاد اب جہاد ل کو لیجئے ، جہاد کے معنی ہیں کسی چیز کے لئے اپنی آخری کوشش صرف کرنا۔ اتنی کوشش کرنا کہ آدمی تھک جائے۔ ہجرت کی طرح یہ جہاد بھی کسی وقتی کارروائی کا نام نہیں ہے بلکہ ایسا عمل ہے جس کا تعلق ساری زندگی سے ہے۔ جہاد صرف میدان جنگ میں نہیں ہوتا بلکہ ایمان لانے کے بعد ہی سے اس کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے اور زندگی کے آخری لمحات تک جاری رہتا ہے۔ ایک غیر اسلامی معاشرہ میں جہاد کی مثال بالکل ویسی ہی ہے جیسی مارکس کے جدلیاتی فلسفہ میں ایک نظام کے اندر اس کے ضد کی ہوتی ہے۔ یہ ایک زبردست چیلنج ہے جو کسی نظام کے اندر اس کے عدو کی حیثیت سے ظاہر ہوتا ہے۔ جاہلی معاشرہ میں کسی کا اسلام قبول کرنا دراصل وقت کے خلاف فیصلہ کرنا ہے۔ یہ فیصلہ اگر صحیح شعور اور مکمل عزم کے ساتھ ہو تو بالکل لازمی نتیجہ کے طور پر معاشرہ کے ہر فرد اور اس کے تمام اداروں سے اس کا ٹکراؤ شروع ہو جاتا ہے۔ ایک طرف وقت کا معاشرہ ہوتا ہے جو اپنے تمام نظری اور عملی پہلوؤں کے اعتبار سے زندگی کے تمام شعبوں پر چھایا ہوا ہوتا ہے۔ دوسری طرف یہ صاحبِ ایمان ہوتا ہے جو اس سے مختلف ایک اور ہی طرزِ زندگی کو اپنے گرد و پیش کی دنیا میں دیکھنا چاہتا ہے۔ ماحول کے ساتھ اس کا یہ اختلاف اس کو ایک ایسی تیز گیس کی مانند بنا دیتا ہے جو کسی محدود خول کے اندر بند ہو اور ہر آن اس سے نکلنے کے لئے بے قرار ہو۔ یہ امام راغب اصفہانی اپنی کتاب ”المفردات فی غریب القرآن“ میں اس لفظ کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں جہد اور جہد کے معنی طاقت اور مشقت کے ہیں جہدتُ رأيي — یعنی میں نے انتہائی غور و فکر کیا جو میرے بس میں تھا۔ اور جہاد اور مجاہدہ (جو اس سے نکلے ہیں) کے معنی ہیں دشمن کے مقابلے میں اپنی پوری قوت خرچ کرنا۔ اور جہاد کی تین قسمیں ہیں: دشمن ظاہر سے جہاد کرنا، شیطان سے جہاد کرنا اور نفس سے جہاد کرنا۔“

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader