جہاد
Urdu book, p. 25
By Maulana Wahiduddin Khan
کش مکش اور جد و جہد کا عمل آدمی کے اپنے نفس سے شروع ہوتا ہے اور تمدن کے مختلف گوشوں میں پھیلتا ہوا ہر اس معاملہ تک پہنچ جاتا ہے جس کا تعلق انسانی زندگی سے ہو۔ یہ عمل مسلسل جاری رہتا ہے اور دن بدن تیز تر ہوتا چلا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ وقت آتا ہے جب یہ کش مکش اپنے آخری نقطہ پر پہنچ جاتی ہے۔ ماحول کا بند ٹوٹ جاتا ہے اور جاہلی نظام شکست کھا کر اسلام کے لیے جگہ خالی کر دیتا ہے۔ جہاد کی اصل حقیقت خدا کی راہ میں چلنے کے لیے اپنے آپ کو تھکانا ہے۔ قرآن میں خدا کے دین کو ”نجد“ کہا گیا ہے، جس کے معنی بلند مقام کے ہیں اور اس دین پر عمل کرنے کو اونچائی پر چڑھنے سے تشبیہ دی گئی ہے۔ (البلد، 11:10-90) اس مثال سے ہم جہاد کی حقیقت سمجھ سکتے ہیں۔ دنیا میں زندگی گزارنے کی صرف دو راہیں ہیں۔ ایک نفس کی خواہش کے مطابق اور دوسری خدا کی مرضی کے مطابق۔ ایک غیر ذمہ دارانہ زندگی ہے اور دوسری ذمہ دارانہ زندگی۔ پہلی راہ بے حد آسان ہے اور دوسری راہ بے حد دشوار۔ پہلی صورت میں اوپر سے نیچے آنا ہوتا ہے اور دوسری صورت میں نیچے سے اوپر جانا ہوتا ہے۔ گاڑی کو کسی ڈھلوان راستہ پر چھوڑ دیجئے تو وہ خود لڑھکتی چلی جائے گی ، اس کے لئے کسی غیر معمولی کوشش کی ضرورت نہیں ہوگی۔ لیکن اگر ایسی گاڑی کو کسی بلندی پر چڑھانا ہو تو مسلسل محنت کی ضرورت ہے۔ ایک تھکا دینے والی مشقت کے بغیر کوئی شخص اپنی گاڑی کو نیچے سے اوپر نہیں لے جا سکتا۔ یہی عمل جب وقت اور خواہش کے خلاف اپنی زندگی کو خدا کی طرف لے جانے کے لئے کیا جائے تو اس کو ہم جہاد کہتے ہیں۔ انسان جب یہ فیصلہ کرتا ہے کہ وہ خدا کی مرضی کے مطابق زندگی بسر کرے گا تو اس کو فوراً معلوم ہوتا ہے کہ یہاں دو ایسی طاقتیں ہیں جو اس کے اس ارادہ کی راہ میں زبردست روک ہیں۔ ایک خود اس کا اپنا نفس، دوسرے طاغوت۔ نفس سے مراد انسان کا یہ جذبہ ہے کہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader