تمہید
Urdu book, p. 108
By Maulana Wahiduddin Khan
زمانہ گواہ ہے قرآن کی سورہ نمبر ۱۰۳ میں ارشاد ہوا ہے ـــــ زمانہ گواہ ہے ۔ بے شک انسان گھاٹے میں ہے۔ مگر جو لوگ کہ ایمان لائے اور نیک عمل کیا اور ایک دوسرے کو حق کی نصیحت کی اور ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کی (العصر ۳-۱) انسان ایک مخصوص زمانہ میں پیدا ہوتا ہے۔ زمانے کے گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کی عمر آگے بڑھتی رہتی ہے یہاں تک کہ وہ زمانہ کی اس حد پر پہنچ جاتا ہے جو اس کی عمر کی آخری حد ہے۔ اب اس پر موت آ جاتی ہے۔ انسانی زندگی کی یہ نوعیت بتاتی ہے کہ وہی انسان کامیاب ہے جو اپنے طے ہوئے وقت کو استعمال کر سکے۔ ورنہ وقت گزر جائے گا اور آخر میں اس کے حصہ میں کچھ نہ ہوگا۔ آدمی ہر لمحہ اپنی موت کی طرف جا رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اگر اپنی مہلت عمر کو استعمال نہ کرے تو آخر کار اس کے حصہ میں جو چیز آئے گی وہ صرف محرومی ہے۔ کامیاب ہونے کے لیے آدمی کو خود عمل کرنا ہے جبکہ ناکامی کے لیے کسی عمل کی ضرورت نہیں۔ وہ اپنے آپ اس کی طرف بھاگی چلی آرہی ہے۔ ایک بزرگ نے کہا کہ سورہ عصر کا مطلب میں نے ایک برف بیچنے والے سے سمجھا جو بازار میں آواز لگا رہا تھا کہ لوگو، اس شخص پر رحم کرو جس کا اثاثہ گھل رہا ہے۔ لوگو، اس شخص پر رحم کرو جس کا اثاثہ گھل رہا ہے۔ اس پکار کو سن کر میں نے اپنے دل میں کہا کہ جس طرح برف پگھل کر کم ہوتی رہتی ہے۔ اسی طرح انسان کو ملی ہوئی عمر بھی تیزی سے گزر رہی ہے۔ عمر کا موقع اگر بے عملی میں یا برے کاموں میں کھو دیا جائے تو یہی انسان گھاٹا ہے (تفسیر کبیر امام رازی) اپنے وقت کو صحیح استعمال کرنے والا وہ ہے جو موجودہ دنیا میں تین باتوں کا ثبوت دے۔ ایک ایمان، یعنی حقیقت کا شعور اور اس کا اعتراف۔ دوسرے عمل صالح، یعنی وہی کرنا جو کرنا چاہیے اور وہ نہ کرنا جو نہیں کرنا چاہیے ۔ تیسرے حق و صبر کی تلقین یعنی حقیقت کا اتنا گہرا ادراک کہ آدمی اس کا داعی اور مبلغ بن جائے۔ اس دنیا میں ایک کامیاب زندگی پانے کے لیے صبر لازمی طور پر ضروری ہے۔ آدمی جب خلاف ایمان باتوں کا چھوڑنا برداشت کرتا ہے، اسی وقت اس کو ایمان کی نعمت حاصل ہوتی ہے۔ جب وہ اپنی خواہشوں پر بریک لگاتا ہے، اسی وقت عمل صالح کو اختیار کرنا اس کے لیے ممکن ہوتا ہے۔ جب وہ لوگوں کی طرف سے پیش آنے والی نا خوشگاریوں پر صبر کرتا ہے۔ اسی وقت وہ اس قابل ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کو حق کی نصیحت کر سکے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader