Urdu book · اسلام ایک تعارف

تمہید

Urdu book, p. 109

By Maulana Wahiduddin Khan

انسانی سماج قرآن کی سورہ نمبر ۱۹ میں ارشاد ہوا ہے ۔ بے شک اللہ حکم دیتا ہے عدل کا اور احسان کا اور قرابت داروں کو دینے کا۔ اور اللہ روکتا ہے فحشاء سے اور منکر سے اور سرکشی سے ۔ اللہ تم کو نصیحت کرتا ہے تاکہ تم یاد دہانی حاصل کرو (النخل ۹۰) انسان کو چاہیے کہ وہ خدا کی دنیا میں عدل کے ساتھ رہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص کا جو حق دوسرے پر آتا ہے وہ اس کو پوری طرح ادا کرے۔ خواہ صاحب حق کمزور ہو یا طاقت ور اور خواہ وہ پسندیدہ شخص ہو یا ناپسندیدہ۔ حقوق کی ادائیگی میں صرف حق کا لحاظ کیا جائے نہ کہ دوسرے اعتبارات کا۔ احسان یہ ہے کہ حقوق کی ادائیگی میں عالی ظرفی کا طریقہ اپنایا جائے۔ انصاف کے ساتھ مروت کو جمع کیا جائے۔ قانونی دائرہ سے آگے بڑھ کر لوگوں کے ساتھ فیاضی اور ہمدردی کا رویہ اختیار کیا جائے۔ آدمی کے اندر یہ حوصلہ ہو کہ حتی الامکان وہ اپنے لیے اپنے حق سے کم پر راضی ہو جائے اور دوسرے کو اس کے حق سے زیادہ دینے کی کوشش کرے۔ (بیتاء ذی القربی یہ ہے کہ آدمی جس طرح اپنے بیوی بچوں کی ضرورت کو دیکھ کر تڑپ اٹھتا ہے اور اس کو پورا کرتا ہے ، اسی طرح وہ دوسرے قریبی لوگوں کی ضرورت کے بارہ میں بھی حساس ہو۔ ہر صاحب استعداد شخص اپنے مال پر صرف اپنا اور اپنے گھر والوں ہی کا حق نہ سمجھے بلکہ اپنے رشتہ داروں کے حقوق ادا کرنے کو بھی وہ اپنی ذمہ داری میں شامل کرے ۔ یہ وہ تین کام ہیں جن کی ہدایت خدا نے انسان کو دی ہے ۔ اب تین چیزیں ایسی ہیں جن سے خدا نے انسان کو روکا ہے۔ پہلی چیز فحشار ہے۔ اس سے مراد کھلی ہوئی اخلاقی برائیاں ہیں۔ یعنی وہ برائیاں جن کا برا ہونا خود اپنے ضمیر کے تحت ہر آدمی کو معلوم ہوتا ہے ۔ دوسری چیز منکر ہے ، اس سے مراد وہ نامعقول کام ہیں جو عام اخلاقی معیار کے خلاف ہیں۔ اس میں وہ تمام چیزیں شامل ہیں جن کو انسان عام طور پر برا جانتے ہیں۔ تیسری چیز بغی ہے۔ اس کے معنی ہیں حد سے تجاوز کرنا۔ اس میں ہر وہ سرکشی داخل ہے جب کہ آدمی اپنی واقعی حد سے گزر کر دوسرے شخص پر دست درازی کرے۔ وہ اپنے زور واثر کو نا جائز فائدہ اٹھانے کے لیے استعمال کرنے لگے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page