تمہید
Urdu book, p. 110
By Maulana Wahiduddin Khan
انسانی بلندی قرآن کی سورہ نمبرہ میں ارشاد ہوا ہے کہ - اور اگر ہم چاہتے تو اس کو ان نشانیوں کے ذریعے سے بلندی عطا کرتے۔ مگر وہ تو زمین کا ہو رہا اور اپنی خواہشوں کی پیروی کرنے لگا۔ پس اس کی مثال کتے کی سی ہے کہ اگر تو اس پر بوجھ لادے تب بھی ہانپے اور اگر چھوڑ دے تب بھی ہانپے۔ یہ مثال ان لوگوں کی ہے جنھوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا۔ پس تم پر احوال ان کو سناؤ تا کہ وہ سوچیں (الاعراف ،۱۷۶) موجودہ دنیا حق کی نشانیوں سے بھری ہوئی ہے۔ انسان کا ضمیر اس کو سچائی کی طرف رہنمائی دیتا ہے۔ کائنات اپنے پورے وجود کے ساتھ سچائی کا خاموش اعلان ہے۔ اسی کے ساتھ خدا کا پیغمبر خدا سے ہدایت لے کر الفاظ کی صورت میں اس حقیقت کا آخری حد تک اظہار کر رہا ہے۔ اس طرح خدا نے انسان کے لیے ہدایت کا عالمگیر اہتمام کر رکھا ہے۔ اگر انسان ان حسنّائی آوازوں کو سنے اور ان سے ہدایت لینے کی کوشش کرے تو وہ کبھی گمراہ نہیں ہو سکتا۔ آدمی یقینی طور پر سچائی کو پالے گا اور پھر اس منزل کی طرف چل پڑے گا جو اس کی کامیابی کی اصل منزل ہے۔ اس عمل کے دوران اس کا ذہنی ارتقا ہوگا ، اس کی روح ترقی یافتہ روح بنتی چلی جائے گی ، وہ خدا کا وہ مطلوب انسان بن جائے گا جس کے لیے اس نے ابدی سعادتیں مقدر کی ہیں۔ مگر اکثر انسانوں کے ساتھ یہ المیہ پیش آتا ہے کہ وہ مادی ترغیبات کے مقابلہ میں شکست کھا جاتے ہیں۔ مادی رونقیں انھیں اپنی طرف کھینچ لیتی ہیں۔ وہ ضمیر کی آواز، کائنات کا اعلان اور پیغمبر کی ہدایت ہر ایک کو نظر انداز کرکے کے مادی زینتوں کی طرف دوڑ پڑتے ہیں۔ اور آخر کار یہ ہوتا ہے کہ بہترین امکانات سے بھری ہوئی دنیا میں وہ تباہ و برباد ہو کر رہ جاتے ہیں۔ خدا نے انسان کے لیے اس دنیا میں بہترین امکانات کھولے ہیں۔ اس لیے یہاں وہ تمام اسباب مہیا کر دیے ہیں جس کے ذریعہ انسان بلندیوں کی طرف سفر کر سکے۔ مگر اس سفر کی شرط یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو سطحی چیزوں سے اوپر اٹھائے وہ خواہش کی پیروی نہ کرے ۔ وہ ظاہری رونقوں کو نظر انداز کر کے اعلیٰ حقیقتوں کو اپنی توجہ کا مرکز بنائے ، ایسے ہی لوگ اعلیٰ انسانی مرتبہ تک پہنچیں گے۔ جو لوگ ایسا نہ کریں وہ اپنے آپ کو پستیوں میں گرا لیں گے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader