Urdu book · اسلام ایک تعارف

دین رحمت

Urdu book, p. 113

By Maulana Wahiduddin Khan

دین رحمت آپ قرآن کو کھولیں تو آپ دیکھیں گے کہ اس کی سب سے پہلی آیت یہ ہے: بسم اللہ الرحمن الرحیم (اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے) یہ آیت قرآن میں ایک سو چودہ بار آئی ہے۔ اس سے اس کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ رحم یا مہربانی کی قدر اسلام کے نزدیک سب سے زیادہ اہم ہے۔ ہر سچے مسلمان کے لئے ضروری ہے کہ وہ رحمت ور اُفت اور شفقت و مہربانی کا پیکر بنے۔ اس کے دل میں دوسروں کے لئے مہربانی کے سوا کوئی اور جذبہ موجود نہ ہو۔ اسلام میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ جب بھی ایک شخص دوسرے شخص سے ملے تو وہ اس سے السلام علیکم کہے۔ یعنی ہر ایک دوسرے کے لئے امن و سلامتی کا اظہار کرے۔ نماز اسلام میں ایک ایسی عبادت ہے جو ہر روز پانچ وقت ادا کی جاتی ہے (مسنون نمازیں اس کے علاوہ ہیں)۔ ہر نماز کے آخر میں نماز پڑھنے والا دائیں اور بائیں اپنا منہ پھیر کر کہتا ہے: السلام علیکم ورحمتہ اللہ (تمہارے اوپر اللہ کی سلامتی اور برکت ہو)۔ اس طرح ہر مسلمان کو یہ تعلیم دی گئی کہ وہ ساری دنیا کے انسانوں کے لئے اپنے سینہ میں مہربانی کے جذبات کی پرورش کرے۔ اس کا دل تمام انسانوں کے لئے رحمت و شفقت سے بھرا ہوا ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام دین رحمت ہے۔ اس کی تمام تعلیمات، براہ راست یا بالواسطہ طور پر امن اور رحمت سے متعلق ہیں۔ اسلام یہ چاہتا ہے کہ ہر انسان کے دل میں دوسرے انسان کے لئے بہتر جذبات موجود ہوں۔ ہر ایک دوسرے کو انسان کے روپ میں دیکھے نہ کہ اپنے اور غیر، دوست اور دشمن کی نظر سے۔ بہتر انسانی سماج بنانے کی یہی واحد تدبیر ہے اور اسلام میں بار بار اس کی خصوصی تاکید کی گئی ہے۔ جس سماج میں لوگوں کے درمیان اس قسم کا ماحول ہو وہ سماج لازماً ترقی کرے گا۔ ایسے سماج میں ہر ایک کو دوسرے سے وہ چیز ملے گی جو وہ اپنے لئے چاہتا ہے، ہر ایک اس چیز سے بچارہے گا جس کو وہ اپنے لئے پسند نہیں کرتا۔ اسلام رحمت کلچر ہے۔ اس کی تمام اخلاقی تعلیمات کا مقصد یہ ہے کہ لوگ ایک دوسرے سے محبت کریں، لوگ ایک دوسرے کے لئے رحمت کا پیکر بن جائیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page