دین رحمت
Urdu book, p. 114
By Maulana Wahiduddin Khan
انسانی خدمت حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس آدمی نے کسی مسلم کے دنیا کے غموں میں سے کسی غم کو دور کیا تو اللہ اس کے قیامت کے غموں میں سے کسی غم کو دور کرے گا۔ جس نے کسی مشکل میں پھنسے ہوئے آدمی کی مشکل کو آسان کیا تو اللہ اس کی دنیا اور آخرت کی مشکل کو آسان کرے گا۔ جس نے کسی مسلم کی پردہ پوشی کی تو اللہ دنیا اور آخرت میں اس کی پردہ پوشی کرے گا۔ اور اللہ بندے کی مدد پر رہتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد پر رہے (واللہ فی عون العبد ما كان العبد في عون اخيه) سنن ابی داؤد، کتاب الادب، باب فی المعونة للمسلم، ۲۸۸/۳ اسلام کی اس تعلیم میں انسانی خدمت کے معاملے کو ہر آدمی کا ذاتی معاملہ بنا دیا ہے۔ اس کے مطابق، کوئی آدمی جب کسی انسان کی مدد کرتا ہے تو وہ اپنے آپ کو خدا کی مدد کا مستحق بناتا ہے۔ اس نے جو کچھ دوسروں کے ساتھ کیا ہے، وہ ہی زیادہ بڑے پیمانے پر وہ خدا سے اپنے لیے پا لیتا ہے۔ یہ تعلیم آدمی کے اندر انسانی خدمت کا غیر معمولی جذبہ پیدا کر دیتی ہے۔ وہ جب کسی کو تکلیف میں دیکھتا ہے تو وہ محسوس کرتا ہے کہ اس کے لیے وہ قیمتی لمحہ آگیا جب کہ وہ اس کی تکلیف کو دور کر کے اپنے آپ کو خدا کی رحمتوں کا مستحق بنا لے۔ اسی طرح جب وہ دیکھتا ہے کہ کوئی انسان مشکل میں پھنسا ہوا ہے تو وہ اس کو مشکل سے نکالنے کے لیے دوڑ پڑتا ہے، کیوں کہ اس کو یقین ہوتا ہے کہ دوسرے کی مشکل کشائی خود اس کے لیے نازک تر مواقع پر مشکل کشائی کا سبب بنے گی۔ جب کسی کا عیب اس کے علم میں آتا ہے تو وہ اس کا اشتہار کرنے کے بجائے وہ اس کو چھپاتا ہے۔ اس طرح وہ اپنے آپ کو اس قابل بناتا ہے کہ خدا اس کے عیبوں کو چھپائے۔ دنیا کا نظام اس طرح بنا ہے کہ یہاں کبھی کوئی شخص ضرورت مند ہوتا ہے اور کوئی شخص اس پوزیشن میں ہوتا ہے کہ وہ ضرورت مند کے پاس پہنچے اور اس کی ضرورت کو پورا کرے۔ یہ حالات اس لیے ہیں تاکہ صاحب حیثیت آدمی دوسرے کی مدد کر کے اپنے آپ کو خدا کی مدد کا مستحق بنائے۔ اور جس کی مدد کی گئی ہے وہ احسان مندی کا اظہار کر کے اپنے اندر اعتراف کے جذبہ کی پرورش کرے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader