دین رحمت
Urdu book, p. 116
By Maulana Wahiduddin Khan
محبت عام حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہو سکتا جب تک اس کا یہ حال نہ ہو جائے کہ وہ اپنے بھائی کے لیے بھی اسی چیز کو محبوب رکھے جس کو وہ اپنے لیے محبوب رکھتا ہے (لا يؤمن احدكم حتى يحب لاخيه مايحب لنفسه) فتح الباری ۳/۱، اس حدیث میں انسانی اخلاق کا ایک ایسا سادہ معیار بتایا گیا ہے جس کو ہر آدمی سمجھے ، اور ہر آدمی اس کو اپنا سکے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس معاملے میں اس سے زیادہ سادہ معیار اور کوئی نہیں ہو سکتا۔ ہر آدمی بتائے بغیر جانتا ہے کہ کیا چیز اس کو پسند ہے ، اور وہ کون سی چیز ہے جو اس کو پسند نہیں ۔ وہ کون سی بات ہے جو اس کو اچھی لگتی ہے اور وہ کون سی بات ہے جو اس کو بری معلوم ہوتی ہے۔ اسلام کی یہ تعلیم ہے کہ ہر آدمی اسی جانے پہچانے معیار کو دوسروں کے لیے بھی اختیار کرے۔ ہر آدمی کو یہ پسند ہے کہ اس سے بات کرنے والا ٹھنڈے انداز میں اس سے بات کرے۔ اب ہر آدمی کو چاہیے کہ دوسروں سے بات کرنے میں وہ بھی ہمیشہ ٹھنڈا انداز اختیار کرے۔ ہر آدمی کو یہ پسند ہے کہ کوئی شخص جب اس سے وعدہ کر لے تو وہ اپنے وعدہ کو پورا کرے۔ اب یہی روش اس کو بھی دوسروں کے ساتھ اختیار کرنا چاہیے ۔ ہر آدمی کو یہ پسند ہے کہ اس کے ساتھ جب کسی کا لین دین ہو تو وہ اس کے ساتھ خیانت کا معاملہ نہ کرے ۔ اب اس کو بھی دوسروں کے ساتھ اسی طرح کا معاملہ کرنا چاہیے۔ برا انسان وہ ہے جو ایک حقیقت کو اپنے بارہ میں جانے مگر وہ اسی حقیقت کو دوسروں کے بارے میں بھول جائے۔ اس کے مقابلہ میں اچھا انسان وہ ہے جس کے اندر اس قسم کی دو عملی نہ ہو ۔ وہ دوسروں کے لیے بھی ویسا ہی ہو جیسا کہ وہ خود اپنے آپ کے لیے ہے ۔ صرف اپنی پسند کو جاننا خود غرضی ہے۔ اپنی پسند کے ساتھ دوسروں کی پسند کو جاننا ایثار ہے۔ خود غرضی انسان کی انسانیت کی توہین ہے ۔ اس کے برعکس ایثار انسانیت کا اعلیٰ ترین درجہ ہے۔ خود غرض انسان صرف اپنے آپ کو جانتا ہے اور صاحب ایثار انسان اپنے ساتھ دوسروں کو بھی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader