Urdu book · اسلام ایک تعارف

دین رحمت

Urdu book, p. 115

By Maulana Wahiduddin Khan

برتر اخلاق حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ اممعہ نہ بنو۔ یعنی تم یہ کہنے لگو کہ اگر لوگ ہمارے ساتھ اچھا سلوک کریں گے تو ہم بھی ان کے ساتھ اچھا سلوک کریں گے۔ اور اگر وہ ہمارے ساتھ ظلم کریں گے تو ہم بھی ان کے ساتھ ظلم کریں گے۔ بلکہ تم اپنے آپ کو اس کے لیے آمادہ کرو کہ اگر لوگ ہمارے ساتھ اچھا سلوک کریں تب بھی ہم ان کے ساتھ اچھا سلوک کریں گے ۔ اور اگر وہ ہمارے ساتھ برا سلوک کریں تب بھی ہم ان کے ساتھ ظلم نہیں کریں گے: لا تكونوا إمعة تقولون إن أحسن الناس أحسنا وإن ظلموا ظلمنا ولكن وطنوا أنفسكم إن أحسن الناس أن تحسنوا وإن أسأوا فلا تظلموا (الترمذی، بحوالہ مشکاة المصابیح ۱/ ۴۱۸) اسلامی اخلاق وہ ہے جو برتر اخلاق ہو۔ یعنی ہر حال میں اچھے اخلاق پر قائم رہ رہنا، خواہ دوسروں کی طرف سے برے اخلاق کا تجربہ پیش آ رہا ہو۔ اسلامی اخلاق دوسروں کے رد عمل میں نہیں بنتا بلکہ خود اپنے اعلیٰ اصولی معیاروں کے تحت بنتا ہے۔ اسلام میں اخلاق ایک عبادت ہے، وہ کوئی جوابی انسانی رویہ نہیں۔ عبادت کا ثواب کیفیات کے اضافے کے ساتھ بڑھ جاتا ہے۔ اسی طرح جب کوئی آدمی دوسروں کی طرف سے برے سلوک کا تجربہ پیش آنے کے باوجود ان کے ساتھ اچھے سلوک پر قائم رہے تو اس کا ثواب بھی بڑھ جائے گا۔ کیوں کہ وہ جذبات کی قربانی کی سطح پر جا کر حسنِ اخلاق کے اصول پر قائم رہا۔ معتدل حالات میں حسنِ اخلاق اگر سادہ طور پر تہذیبی برتاؤ (manners) کی حیثیت رکھتا ہے تو غیر معتدل حالات میں حسنِ اخلاق اعلیٰ درجہ کی عبادت بن جاتا ہے۔ معتدل حالات میں جو خوش اخلاقی برتی جاتی ہے، وہ انسانی شخصیت کے ارتقاء میں کچھ مددگار نہیں ہوتی۔ لیکن جب ایک آدمی غیر معتدل حالات میں دوسروں کے برے رویہ سے غیر متاثرہ کر حسنِ اخلاق پر قائم رہے تو اس کی یہ روش اس کی شخصیت کے ارتقا کا ذریعہ بن جائے گی ۔ بد اخلاقی کے جواب میں حسنِ اخلاق بلا شبہ سب سے بڑا اخلاق ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page