Urdu book · اسلام ایک تعارف

دین رحمت

Urdu book, p. 119

By Maulana Wahiduddin Khan

صبح و شام ایک روایت کے مطابق پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ آدمی رشک کے قابل ہے جس کو اللہ نے مال دیا ہو اور پھر وہ اس کو رات میں بھی اور دن میں بھی خرچ کرے (ورجل اعطاہ اللہ مالا فھو يتصدق بہ آناء الليل و آناء النھار) فتح الباری ۶۹۱/۸ اسلام کے مطابق ، مال اس لیے نہیں ہے کہ آدمی اس کے ذریعہ سے اپنی خواہشیں پوری کرے بلکہ مال کسی کو اس لیے دیا جاتا ہے کہ وہ اس کو استعمال کر کے عام انسانوں کی خدمت کرے۔ مال بھلائی کمانے کے لیے ہے نہ کہ ذاتی آرزوؤں کی تکمیل کے لیے۔ اسلام کے مطابق ، انسان کی دو ذمہ داریاں ہیں۔ ایک خدا کی نسبت سے ، اور دوسری عام آدمیوں کی نسبت سے۔ خدا کی نسبت سے آدمی کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ خدا کی خدائی کا اعتراف کرے اور اس کا عبادت گزار بن جائے۔ آدمیوں کی نسبت سے اس کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ لوگوں کا خیر خواہ بنے ، ہر ممکن موقع پر وہ دوسروں کے کام آئے۔ کوئی انسان بہت سے پہلوؤں سے عام آدمیوں کا مددگار بن سکتا ہے۔ اٹھیں میں سے ایک اہم ذریعہ مال ہے۔ مال آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ دوسروں کی مدد کر کے ان کا دل ٹھنڈا کرے ۔ وہ دوسروں کے کام آکر انھیں مشکلات سے نکالے۔ دوسروں کی مدد کرنا ایک نہایت اعلیٰ فکری جذبہ ہے۔ جب ایک آدمی دوسرے شخص کی مدد کر کے اس کو مصیبت سے نکالتا ہے تو یہ اس کے اپنے لیے خوشی کا ایک قیمتی موقع ہوتا ہے۔ یہ خوشی گویا اس کے عمل کی ایک نقد قیمت ہے۔ اس کی دوسری بڑی قیمت وہ ہے جو آدمی کو آخرت میں ملے گی۔ لوگوں کی ضرورتوں میں ان کے کام آنا کوئی وقتی عمل نہیں ، یہ ایک مستقل صفت ہے۔ سچا انسان وہ ہے جو لوگوں کو خوش کرنے میں اپنی خوشی سمجھے ، جو دوسروں کی ضرورت پوری کرنے کو اپنی کامیابی جانتا ہو۔ جو صبح و شام ایسے مواقع کی تلاش میں رہے جب کہ وہ دوسروں کی خدمت کر کے اپنی انسانیت کی تکمیل کر سکتا ہو۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page