Urdu book · اسلام ایک تعارف

دین رحمت

Urdu book, p. 120

By Maulana Wahiduddin Khan

حسن معاشرت موطا امام مالک (باب ما جاء فی المہاجرة) میں یہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگو، تم آپس میں مصافحہ کرو اس سے کینہ چلا جائے گا۔ تم آپس میں ہدیہ دو اس سے تمہارے اندر محبت پیدا ہوگی اور دشمنی جاتی رہے گی (تصافحوا یذهب الغل، وتہادوا تحابوا وتذهب الشحناء) موطا امام مالک ، ۱۵۳ انسانی سماج پتھروں کا مجموعہ نہیں ہوتا بلکہ وہ صاحب احساس افراد کا مجموعہ ہوتا ہے۔ ایسے افراد جب مل جل کر رہیں تو ان کی انسانی ضرورتوں میں سے ایک ضرورت یہ ہے کہ ان کے درمیان آپس میں اچھے تعلقات ہوں۔ لوگوں کے دل میں ایک دوسرے کے لیے برادرانہ جذبات پائے جائیں۔ اس طرح کی انسانی فضا کو فروغ دینے کی صورت یہ ہے کہ جب بھی دو یا زیادہ آدمی آپس میں ملیں تو وہ ایک دوسرے سے سلام اور مصافحہ کریں۔ سلام کا مطلب ایک دوسرے سے بہتر الفاظ کے ساتھ ملنا ہے، اور مصافحہ گویا اس سے آگے بڑھ کر مزید قربت کی ایک علامت ہے۔ سلام کے بعد جب دو آدمی ایک دوسرے سے مصافحہ کریں تو فطری طور پر ان کے درمیان اجنبیت ختم ہو جاتی ہے اور قربت کا ماحول پیدا ہو جاتا ہے۔ اسی برادرانہ جذبہ کی ایک اور بڑھی ہوئی صورت یہ ہے کہ لوگ ایک دوسرے کو ہدیہ اور تحفہ دیں۔ ھدیہ خواہ چھوٹا ہو یا بڑا، جب وہ مخلصانہ جذبہ کے تحت دیا جاتا ہے تو دینے والے اور پانے والے کے درمیان غیر معمولی محبت پیدا ہو جاتی ہے۔ ھدیہ دو آدمیوں کو اعلیٰ انسانی رشتہ میں باندھ دیتا ہے۔ اسلام میں یہ مطلوب ہے کہ سماج کے اندر منفی رجحانات دبیں اور مثبت رجحانات فروغ پائیں۔ شکایت اور نفرت کی فضا ختم ہو اور لوگ محبت اور حسن تعلق کی فضا میں جینے لگیں۔ سماج میں اس قسم کا ماحول پیدا کرنے کے لیے سلام و مصافحہ اور ھدیہ و تحفہ جیسی چیزیں نہایت اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page