Urdu book · اسلام ایک تعارف

دین رحمت

Urdu book, p. 124

By Maulana Wahiduddin Khan

دوسروں کا حق قرآن میں تفصیل سے بتایا گیا ہے کہ وہ کون لوگ ہیں جو اگلی زندگی میں جنتوں میں داخل کیے جائیں گے۔ ان لوگوں کی لازمی صفات میں سے ایک صفت اس طرح بتائی گئی ہے ؀ اور وہ لوگ جن کے مالوں میں سائل اور محروم کا معین حق ہے (المعارج ۲۴-۲۵) موجودہ دنیا میں ہر انسان بہت سے اجتماعی رشتوں سے وابستہ ہے۔ ایک طرف وہ وسیع تر عالم فطرت سے جڑا ہوا ہے اور دوسری طرف انسانی سماج سے۔ آدمی اپنی زندگی میں جو کچھ کرتا ہے اس میں ان سارے عناصر کا لازمی حصہ شامل رہتا ہے۔ کوئی انسان اس پر قادر نہیں کہ وہ اپنے ماحول سے آزاد ہو کر محض اپنی ذاتی بنیاد پر کوئی قابل قدر چیز حاصل کر سکے ۔ عالم فطرت (سورج ، ہوا ، پانی ، وغیرہ) سے آدمی جو ان گنت فائدے حاصل کرتا ہے اس کا بھی ایک حق ہے۔ اور اس کا حق یہ ہے کہ آدمی دل سے خالق کائنات کا شکر ادا کرے۔ شکر کا یہ احساس اتنا قوی ہو کہ خالق کی یاد اس کے روز و شب کے لمحات میں مستقل طور پر شامل ہو جائے۔ جو لوگ خدا کا یہ حق ادا کریں، وہی لوگ جائزہ طور پر خدا کی اس دنیا میں رہنے کے مستحق ہیں۔ دوسرا حق وہ ہے جو سماج کی نسبت سے ہر انسان کے اوپر عائد ہوتا ہے۔ اس دنیا میں آدمی جو مال حاصل کرتا ہے ، خواہ وہ کم ہو یا زیادہ ، ہر حال میں اس کے اندر سماج کا ایک حصہ شامل رہتا ہے۔ کسی بھی انسان کا حاصل کیا ہوا مال صرف اس کی ذاتی محنت یا لیاقت کا نتیجہ نہیں، بلکہ وہ پورے سماج کا مشترک عطیہ ہے۔ یہ انسانی شرافت کا تقاضا ہے کہ اس حقیقت واقعہ کا اعتراف کیا جائے۔ اس اعتراف کی عملی صورت یہ ہے کہ اپنے حاصل کیے ہوئے مال کا ایک حصہ مستقل طور پر سائل اور محروم کو دیا جائے ۔ یعنی ان لوگوں کو جو اپنی ضرورت کو سوال کی صورت میں پیش کریں ۔ اور ان لوگوں کو بھی جو سوال تو نہ کریں مگر ان کے احوال بتا رہے ہوں کہ وہ مالی کمی کا شکار ہیں ، اور اس قابل ہیں کہ انھیں مالی سہارا پہنچایا جائے۔ دوسروں کا حق ادا کرنے کے بعد ہی کوئی شخص اس قابل بنتا ہے کہ اس کو اس کا حق دیا جائے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page