Urdu book · اسلام ایک تعارف

دین رحمت

Urdu book, p. 125

By Maulana Wahiduddin Khan

نفع بخشی قرآن میں فطرت کے ایک قانون کو اس طرح بتایا گیا ہے ــــ خدا نے آسمان سے پانی اتارا۔ پھر نالے اپنی اپنی مقدار کے موافق بہہ نکلے۔ پھر سیلاب نے ابھرتے جھاگ کو اٹھا لیا اور اسی طرح کا جھاگ ان چیزوں میں بھی ابھر آتا ہے جن کو لوگ زیور یا اسباب بنانے کے لیے آگ میں پگھلاتے ہیں۔ اس طرح اللہ حق اور باطل کی مثال بیان کرتا ہے۔ پس جھاگ تو سوکھ کر جاتا رہتا ہے اور جو چیز انسانوں کو نفع پہنچانے والی ہے وہ زمین میں ٹھہر جاتی ہے۔ اللہ اسی طرح مثالیں بیان کرتا ہے (الرعد ، ۱۷) قرآن کی اس آیت میں فطرت کے دو سبق آموز واقع کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ ایک یہ کہ جب بارش ہوتی ہے اور اس کا پانی بہہ کر ندیوں اور نالوں میں پہنچتا ہے تو پانی کے اوپر ہر طرف جھاگ پھیل جاتا ہے۔ اسی طرح جب چاندی اور دوسری معدنیات کو صاف کرنے کے لیے ان کو آگ پر تپاتے ہیں تو ان کا میل کچیل جھاگ کی صورت میں اوپر آ جاتا ہے، مگر جلد ہی یہ بھیو ہوتا ہے کہ دونوں چیزوں کا جھاگ ، جس میں انسان کے لیے کوئی فائدہ نہیں فضا میں اڑ جاتا ہے اور پانی اور دھات اپنی جگہ پر پوری طرح باقی رہتے ہیں جو کہ انسان کے لیے مفید ہیں۔ یہ فطرت کے واقعات ہیں جن کے ذریعہ خدا تمثیل کے روپ میں ایک اہم حقیقت کو بتا رہا ہے ۔ وہ یہ کہ اس دنیا میں کامیابی اور بقا کا فطری اصول کیا ہے۔ وہ اصول یہ ہے کہ اس دنیا میں صرف اس فرد یا قوم کو بقا و ثبات حاصل ہوتا ہے جو اپنے آپ کو دوسروں کے لیے نفع بخش ثابت کرے۔ جو فرد یا گروہ دوسرے انسانوں کو نفع پہنچانے کی طاقت کھو دے اس کے لیے خدا کی اس دنیا میں کوئی با عزت جگہ نہیں۔ صرف اپنی ذات کے لیے جینا فطرت کی اسکیم کے خلاف ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنی ذاتی ضرورتوں کی تکمیل کے ساتھ لازمی طور پر دوسروں کے بھی کام آئے۔ ایسا نہ کرنے کی صورت میں وہ فطرت کے نقشہ میں بے جگہ ہو کر رہ جائے گا۔ کائنات کا مطلوب انسان وہ ہے جو ایک نفع بخش انسان ہو۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page