Urdu book · اسلام ایک تعارف

دین رحمت

Urdu book, p. 126

By Maulana Wahiduddin Khan

صدقہ اسپرٹ اسلام میں یہ مطلوب ہے کہ ہر آدمی کے اندر صدقہ کی عمومی اسپرٹ موجود ہو۔ وہ ہر حال میں اور ہر موقع پر صدقہ دینے والا بن جائے۔ اس سلسلہ میں ایک حدیث یہ ہے جو صحیح البخاری میں آئی ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر مسلمان کے اوپر صدقہ ہے۔ لوگوں نے کہا کہ اگر وہ کچھ نہ پائے۔ آپ نے فرمایا کہ اس کو چاہیے کہ وہ محنت کر کے کمائے، پھر اس میں سے کچھ اپنے لیے لے اور کچھ دوسرے کے اوپر صدقہ کرے۔ لوگوں نے کہا کہ اگر اس میں یہ استطاعت بھی نہ ہو۔ آپ نے فرمایا کہ وہ ضرورت مند کی خدمت کرے۔ لوگوں نے کہا کہ اگر وہ ایسا بھی نہ کر سکے۔ آپ نے فرمایا کہ اس کو چاہیے کہ وہ خیر کی نصیحت کرے ۔ لوگوں نے کہا کہ اگر وہ ایسا بھی نہ کر سکے۔ آپ نے فرمایا کہ پھر اس کو چاہیے کہ وہ شر سے باز رہے، کیونکہ یہ بھی اس کے لیے صدقہ ہے (فتح الباری ۶۲/۱۰) صدقہ ایک وقتی عمل نہیں بلکہ وہ ایک عمومی اسپرٹ ہے۔ جب ایک آدمی کے اندر صدقہ کی یہ اسپرٹ پیدا ہو جائے تو اس کا اظہار ہر وقت ہوتا رہے گا۔ جو آدمی صدقہ اسپرٹ کا حامل ہو وہ کسی بھی حال میں صدقہ والے عمل سے خالی نہیں ہو سکتا۔ صدقہ کی اصل دوسرے انسانوں کے لیے خیر خواہی ہے۔ جب کسی آدمی کے اندر یہ روح بیدار ہو جاتی ہے تو وہ اپنے اندرونی جذبہ کے تحت مجبور ہوتا ہے کہ وہ دوسروں کے لیے جو کچھ بھی کر سکتا ہے کرے۔ اگر اس کے پاس مال ہو تو وہ اپنے مال میں سے دوسروں کی مدد کرے گا۔ اگر اس کے پاس کوئی مال موجود نہیں تو وہ اپنے ہاتھ پاؤں کو استعمال کر کے کمائے گا اور پھر اس میں سے کچھ اپنی ضرورت میں خرچ کرے گا اور کچھ دوسروں کو دے گا۔ اور اگر اس قسم کا مال بھی اس کے پاس نہ ہو تو وہ اپنے جسم و دماغ سے دوسروں کی خدمت کرے گا۔ مثلاً راستہ سے کانٹا ہٹانا یا کسی مسافر کو راستہ بنانا۔ اسی طرح اس کا یہ جذبہ بوقت ضرورت نصیحت کی صورت میں ظاہر ہوگا، وہ دوسروں کی اصلاح کے لیے انھیں میٹھے الفاظ کا تحفہ دے گا۔ اس صدقہ کا آخری درجہ یہ ہے کہ آدمی ایسے کام سے اپنے آپ کو بچائے جس سے دوسروں کو تکلیف پہنچنے والی ہو۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page